خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 460 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 460

$1944 460 خطبات محمود وہ کتر بیونت 3 کر کے اس خطبہ کے کچھ اقتباس شائع کیسے اور لوگوں کو اشتعال دلایا۔جس پر "احسان"، "زمیندار"، "شہباز" اور "پیام دہلی" وغیرہ نے یہ شور مچانا شروع کر دیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہتک کی گئی ہے کیونکہ کہا گیا ہے کہ دوسرے لوگ بھی اِس دوڑ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑھ سکتے تھے۔مجھے تعجب آتا ہے کہ یہی بات اگر ان کے باپ کے متعلق کہی جائے، اگر ان کے بیٹے کے متعلق کہی جائے، اگر ان کے مین بھائیوں کے متعلق کہی جائے تو وہ سر پھوڑنے کے لیے تیار ہو جائیں۔مگر جب یہی بات رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق کہتے ہیں تو انہیں ذرا بھی احساس نہیں ہوتا کہ وہ تین کیا کہہ رہے ہیں۔اگر کسی کا لڑکا یا کسی کا بھائی یا کسی کا باپ یا کسی کا کوئی اور رشتہ دار کہیں اعلیٰ درجہ کی ملازمت حاصل کرلے اور اُس کے متعلق یہ کہا جائے کہ اُسے سرکار نے خود ہی اونچے درجے پر پہنچا دیا ہے اس نے اپنے زورِ بازو سے یہ درجہ حاصل نہیں کیا تو اس کے رشتہ دار یہ بات کہنے والے سے لڑنے کے لیے تیار ہو جائیں گے۔اور کہیں گے ، اس کا مطلب ہے یہ ہے کہ وہ تھا تو نالائق تھا تو نا اہل مگر گورنمنٹ نے رعایت کر کے ایک نالائق اور نا اہل شخص کو یہ مقام دے دیا اور باقی لوگوں کو اس کے حصول سے محروم کر دیا۔غرض کسی کے متعلق بھی ہے یہ فقرہ کہہ دیا جائے اُس کے عزیز اور رشتہ دار اس فقرہ کو برداشت نہیں کر سکیں گے اور اسے سب ہتک قرار دیں گے۔مگر ہماری دشمنی کی وجہ سے یہ لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ و کے متعلق اس قسم کے الفاظ استعمال کرتے ہیں اور انہیں ذرا بھی احساس نہیں ہوتا کہ وہ اِن الفاظ کے پردہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کیسی خطرناک ہتک کے مر تکب ہو رہے ہیں۔اگر کہا جائے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے خود بخود ایک خاص مقام وئے دیا اور لوگوں کو اس مقام تک پہنچنے سے جبراً روک دیا تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ ہے دنیا میں کئی لوگ ایسے تھے جو رسول کریم سے اِس روحانی دوڑ میں بڑھ سکتے تھے مگر چونکہ خدا نے ان کو جبر آروک دیا اور وہ خود محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور لوگوں کے درمیان حائل ہو گیا اس نے لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کا خاص قرب حاصل کر گئے ورنہ اور لوگ بھی ایسے ہو سکتے تھے جن کو اگر موقع دیا جاتا تو وہ اس مقام کو حاصل کر لیتے۔میرے نزدیک یہ