خطبات محمود (جلد 25) — Page 459
1944ء 459 خطبات محمود ------------------------------ ایسی تھی اور آپ کا رنگ ایسا تھا لیکن باوجود اس کے ہمیں اصل چیز کو دیکھنا چاہیے۔ یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ لوگ اپنی غلط فہمیوں کے نتیجہ میں اس شکل کو بگاڑ کر کس رنگ میں پیش کر رہے ہیں۔ غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت اور آپ کا عشق ہمارے ایمان کا جزو ہے۔ مگر باوجود اس کے جب میں دیکھتا ہوں کہ بعض مسلمان اپنی نادانی اور جہالت کی وجہ سے بلکہ تعصب اور دشمنی میں حد سے نکل جانے کی وجہ سے ہماری باتوں کو توڑ مروڑ کر اور اُنہیں اصل معنوں سے پھر ا کر لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں تو مجھے حیرت حیرت آتی ہے کہ ان کے ایمانوں کو کیا ہو گیا ہے۔ ابھی چند دن ہوئے ایک موقع پر میں نے بعض باتیں کیں جن کا مفہوم یہ تھا کہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق یہ یقین رکھتے ہیں کہ آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور جو درجہ اور مقام حاصل کیا ہے وہ اپنے زورِ عمل سے حاصل کیا ہے۔ ہم یہ خیال نہیں کرتے کہ خدا تعالیٰ نے زبر دستی آپؐ کو اس مقام پر کھڑا کر دیا اور پھر باقی لوگوں اور آپؐ کے درمیان وہ خود کھڑا ہو گیا۔ تاکہ کوئی شخص اُس مقام تک نہ پہنچ سکے جس مقام پر اُس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہنچایا ہے۔ ہمارے نزدیک یہ عقیدہ بالکل غلط اور خلاف قرآن ہے۔ اگر ایسا سمجھا جائے اور یہ خیال کیا جائے کہ خدا تعالیٰ نے بلا استحقاق رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک اعلیٰ مقام پر پہنچادیا اور باقی دنیا کو اُس نے خود ہی اُس مقام تک پہنچنے سے روک دیا تو اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کوئی کمال نہیں ہو گا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کمال اسی میں ہے کہ اس روحانی میدان میں دنیا کی تمام ارواح کو دوڑانے کے لیے کہا جائے اور کسی ایک شخص کو بھی آگے بڑھنے اور ترقی کرنے سے نہ روکا جائے۔ مگر پھر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے آگے نکل جائیں اور دنیا کو دکھا دیں کہ باوجود اس کے کہ خدا نے ہر ایک کے لیے میدان کھلا رکھا تھا، خدانے ہر ایک کے لیے دروازہ کھلا رکھا تھا، خدا نے ہر ایک کے اندر ترقی کا مادہ پیدا کیا تھا۔ پھر بھی اس دوڑ میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے نکل گئے اور ساری دنیا پیچھے رہ گئی۔ میرا یہ خطبہ جب شائع رجب شائع ہوا تو " پیغام صلح" لاہور نے جو ہماری دشمنی میں یزید سے بھی دو قدم آگے رہتا ہے،