خطبات محمود (جلد 25) — Page 442
1944ء 442 خطبات محمود تو قبول کرنے کو تیار ہو جاتی ہیں۔ بلکہ اگر جھوٹا شخص بھی کہے کہ میں خدا کی طرف سے ہوں تو اس سے بھی لوگ ڈر جاتے ہیں۔ گو بعد میں تحقیق سے پتہ لگ جائے تو انکار کر دیتے ہیں۔ سچائی کو خدا کی آواز ہونے کی وجہ سے فائدہ پہنچتا ہے اور لوگوں کو خدا کی طرف سے کہنے کی وجہ سے توجہ پیدا ہوتی ہے۔ جو ر و تعلیم یافتہ طبقہ میں چلی ہے متواتر خطوط سے پتہ لگتا ہے کہ لوگ تحقیق کرنے لگے ہیں۔ یہ جماعتی تبلیغ کے نتیجہ میں نہیں بلکہ خدا کے اعلان کے نتیجہ میں ہے کہ لوگ سمجھنے لگے ہیں کہ اب خاموش رہنا مناسب نہیں۔ بلکہ خدا کی آواز پر غور کرناضروری ہو گیا ہے ور نہ مجرم بن جائیں گے۔ یوں جماعتی تبلیغ میں کمی ہے۔ یہ بھی خدا تعالیٰ نے جماعت پر حجت کا ذریعہ پیدا کر دیا ہے کہ ایک طرف تو تعلیم یافتہ طبقہ متوجہ ہو رہا ہے۔ کچھ مان رہے ہیں، کچھ قریب ہو رہے ہیں۔ اس سے اللہ تعالیٰ نے جماعت پر حجت قائم کر دی ہے کہ یہ بات نہیں ہے کہ ماننے والوں کا گروہ کم ہو گیا ہے۔ اگر یہ کم ہوتا تو لوگ کہہ سکتے تھے کہ اب باقی وہی لوگ رہ گئے ہیں جو نوح کی قوم کی مانند عذاب ہی کے قابل تھے۔ اس اعلان ( مصلح موعود نے لوگوں کے اِس خیال کی اِس طرح تکذیب کر دی کہ جن تک اعلان پہنچ رہا ہے وہ توجہ کر رہے ہیں اور ایک نتیجہ پر پہنچ رہے ہیں۔ اب جب اِس خیال کی تردید ہو گئی تو ایک ہی بات رہ گئی کہ جماعت میں تبلیغ کی طرف پوری توجہ نہیں۔ جیسا کہ میں نے بتایا ہے ہمارے آئندہ حالات پر یہ امر خطرناک طور پر اثر انداز ہونے والا ہے۔ اب کے بیرونی جماعتیں قریب قریب ہندوستان کی جماعتوں کی تعداد کے برابر پہنچ رہی ہیں۔ ہندوستان میں اندازاً تین ساڑھے تین لاکھ کے قریب احمدی ہیں جو جانی بوجھی ہوئی جماعت ہے۔ یوں تو عام تعداد زیادہ ہو گی لیکن جماعتی کاموں میں حصہ لینے والے یا تعلق رکھنے والے سارے ہندوستان میں اندازاً تین ساڑے تین لاکھ کے قریب رہے ہیں۔ ہندوستان سے باہر خصوصاً افریقہ اور جاوا، سماٹرا میں جماعت چند سالوں میں اِس سرعت سے پھیلی ہے کہ اُن کی تعداد دولاکھ کے قریب پہنچ گئی ہے۔ اب یہ خطر ناک بات ہے کہ جس جماعت نے باہر اشاعت کرنی ہو اُس کی تعداد تو ساڑھے تین لاکھ ہو اور بیرونی جماعت دولاکھ ہو۔ بیرونی ملکوں میں اس قدر جلدی احمدیت پھیلی ہے کہ جہاں کوئی نیا مبلغ پہنچا ہے