خطبات محمود (جلد 25) — Page 429
$1944 429 خطبات محمود مگر گاؤں کے لوگوں میں عام طور پر ابھی ایسا ملکہ پیدا نہیں ہوا کہ وہ دوسروں کو احمدیت سکھا سکیں۔بعض گاؤں ایسے ہیں جہاں صرف ایک دو دفعہ ہمارا کوئی مولوی گیا تو وہاں کے لوگوں نے اس سے احمدیت کی بعض باتیں سیکھ لیں۔اس سے زیادہ ان کو دین کا کوئی علم نہیں۔پس ہے شہروں کی جماعتوں کو مضبوط کر کے ارد گرد کے علاقوں کے لیے تعلیمی مرکز بنائے جائیں تاکہ گاؤں والے آسانی کے ساتھ وہاں مسائل دین سیکھ سکیں۔شہروں میں تعلیمی مرکز قائم کر کے ہے کہ گاؤں کی جماعتوں کو تحریک کی جائے کہ اپنا ایک ایک نمائندہ وہاں بھجوادیں تا چار پانچ ماہ میں دین کے بڑے بڑے مسائل سیکھ لے اور اس طرح آہستہ آہستہ سارے علاقہ میں علم دین پھیل جائے۔اور ہر گاؤں میں کوئی نہ کوئی شخص ایسا موجود رہے جو احمدیت کو خود بھی سمجھتا ہو اور دوسروں کو بھی سمجھا سکتا ہو۔اسی طرح ضروری ہے کہ بیر و نجات کی جماعتیں اپنا ایک ایک طالب علم تعلیم حاصل کرنے کے لیے قادیان بھی بھجوائیں۔میرے نزدیک دعوۃ و تبلیغ والوں کو ایک سال کا کورس ایسا تیار کرنا چاہیے جو باہر سے آنے والے لوگوں کو پڑھایا جاسکے اور جس کو پڑھ کر وہ سلسلہ کے ضروری مسائل سے اچھی طرح آگاہ ہو جائیں۔اس کورس کی تیاری کے بعد ہر جماعت پر یہ واجب کر دیا جائے کہ جس طرح وہ چندے دیتی ہے ہے اسی طرح ہر جماعت آئندہ اپنا ایک ایک آدمی بھی تعلیم کے لیے قادیان بھیجا کرے۔اس کا سال بھر کا خرچ وہاں کی جماعت کو خود برداشت کرنا پڑے گا۔جب ایک لڑکا حاصل کر کے واپس چلا جائے تو اگلے سال جماعت دوسر اطالب علم بھجواسکتی ہے۔بہر حال ہر جماعت کو مجبور کیا جائے کہ جس طرح وہ روپیہ کی صورت میں چندہ دیتی ہے اسی طرح وہ آدمیوں کی صورت میں بھی چندہ پیش کرے تاکہ ہندوستان کے ہر علاقہ میں ایسے لوگ پیدا ہو جائیں جو مسائل دینیہ سے پوری طرح آگاہ ہوں۔میں سمجھتا ہوں اگر یہ دونوں طریق اختیار کیے جائیں تو جماعت میں ایک عظیم الشان بیداری پیدا ہو سکتی ہے۔لیکن جب تک یہ انتظام نہ ہو جس جس کو جو کچھ آتا ہے اُسی کو لے کر وہ باہر نکل جائے اور لوگوں کو تبلیغ کرنا شروع کر دے۔اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے تبلیغ کا بہترین طریق یہ ہے کہ انسان اپنے غیر احمدی رشتہ داروں کے پاس چلا جائے اور اُن سے کہے کہ اب میں نے یہاں سے مر کر ہی اٹھنا ہے