خطبات محمود (جلد 25) — Page 426
1944ء 426 خطبات محمود کرنے کے لیے چلے گئے جیسے کوئی شخص سیر کرنے کے لیے چلا جاتا ہے۔ حالانکہ قادیان میں ہی اتنے احمدی موجود ہیں کہ اگر سچے طور پر ان میں اخلاص ہو تا، ان میں تقوی ہو تا، ان میں دین کی محبت ہوتی تو وہ ہزارہا کی جماعت اب تک بڑھا چکے ہوتے۔ پھر جوں جوں جماعت بڑھتی چلی جاتی دائرہ تبلیغ کو بھی ہم وسیع کر سکتے تھے۔ مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ انہوں نے اِس طرف کوئی توجہ نہیں کی۔ اسی طرح باہر کے لوگوں کا حال ہے۔ بعض جماعتوں پر سالہا سال گزر جاتے ہیں مگر اُن میں کوئی نیا احمدی داخل نہیں ہوتا۔ جس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ وہ تبلیغ نہیں کرتے، سستی ان پر چھا جاتی ہے، دین ان کا کمزور ہو جاتا ہے اور مذہبی احکام پر عمل بہت کم ہو جاتا ہے۔ جس کے نتیجہ میں ان کی نمازوں میں بھی سستی آجاتی ہے، ان کے روزوں میں بھی سستی آجاتی ہے ، ان کی زکوۃ میں بھی سستی آجاتی ہے، ان کے صدقہ و خیرات میں بھی سستی آجاتی ہے۔ بے شک چندہ ایسی چیز ہے جس کے متعلق ہماری جماعت میں بیداری پائی جاتی ہے مگر وہ بیداری شاید اس لیے ہے کہ بیت المال کا صیغہ دعوۃ و تبلیغ سے زیادہ احساس اپنے اندر رکھتا ہے۔ ان کو فکر ہے کہ اگر چندہ پورانہ ہوا تو سلسلہ کے کام بند ہو جائیں گے اور لوگ اعتراض کریں گے ۔ لیکن دعوۃ و تبلیغ والوں کو یہ کوئی فکر نہیں کہ وہ نئے آدمی جماعت میں شامل کرنے کی کوشش کریں۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں جماعت کو بھی لو بھی اس کے متعلق کوئی احساس نہیں۔ اگر ہم نے کوئی کام نہ کیا تب بھی جماعت کوئی اعتراض نہیں کرے گی۔ بہر حال ہماری جماعت میں تبلیغ کے متعلق خطر ناک طور پر سستی پائی جاتی ہے۔ جماعتوں کا فرض ہے کہ وہ اس کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ ابھی یہ خطرہ نمایاں نہیں ہوا کیونکہ جنگ کی وجہ سے بیرونی ممالک کی تبلیغ پر زیادہ زور نہیں دیا جا سکتا۔ لیکن اس خطرہ سے آنکھیں بند کر لینا انتہائی طور پر نادانی اور حماقت ہے۔ میرے اعلان پر سینکڑوں لوگوں نے اپنی زندگیاں اسلام کی تبلیغ کے لیے وقف کی ہیں اور بیسیوں مبلغ ہیں جو بیرونی ممالک کی تبلیغ کے لیے تیار ہو رہے ہیں اور تھوڑے ہی عرصہ کے بعد وہ ہندوستان سے باہر تبلیغ کے لیے بھیجوا دیئے جائیں گے۔ اور جیسا کہ گزشتہ تجربہ بتا رہا ہے جب یہ لوگ تبلیغ کے میدان میں کھڑے ہوئے ہی