خطبات محمود (جلد 25) — Page 425
$1944 425 محمود ایک تمسخر کا ڈھانچہ بنا کر رکھ دیا۔چنانچہ مجھے بتایا گیا کہ ارد گرد کے چند علاقوں میں پندرہ دن میں ایک دفعہ چالیس پچاس آدمی گئے اور انہوں نے تبلیغ کی۔حالانکہ میر امنشاء یہ تھا کہ حلقے مقرر کر کے مختلف لوگوں کے سپر د کر دیے جائیں اور اُن کا یہ فرض قرار دیا جائے کہ وہ اپنے اپنے حلقہ کے تمام دیہات میں متواتر جائیں اور تبلیغ کریں۔تبلیغ کے لیے ایک وسیع حلقہ میں پندرہ دن کے بعد ایک روز جانے کے کوئی معنے ہی نہیں۔قریب کے گاؤں میں ہر دوسرے دن انسان تبلیغ کے لیے جاسکتا ہے۔بلکہ اگر کوشش کرے تو روزانہ بھی جاسکتا ہے۔مگر انہوں نے اتنا ہی کافی سمجھ لیا کہ پندرہ دن کے بعد ایک دن سیر کے لیے نکل گئے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تبلیغ کی کوئی اہمیت ہی دلوں میں باقی نہیں رہی۔اور جب بھی کوئی کام کیا جاتا ہے معمولی سا قدم اٹھا کر یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ ہم نے بہت بڑا کام کر لیا۔حالانکہ قادیان میں تین چار ہزار آدمی موجود ہیں۔اگر ہر شخص سچا احمدی ہو تا تو اُس کے اندر ایک جنون ہونا چاہیے تھا کہ میں احمدیت کو پھیلاؤں۔اور یہ جنون اس حد تک بڑھا ہوا ہو تا کہ اگر ان میں۔شخص کو روٹی کھانے کے لیے کہا جاتا تو وہ کہتا کہ میں روٹی اُس وقت تک نہیں کھا سکتا جب تک دین کی کچھ نہ کچھ تبلیغ نہ کرلوں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض لوگوں کے کام مرکزی ہوتے ہیں۔مگر یہ تو نہیں کہ جو لوگ تبلیغ کے لیے نہیں جاتے وہ سب کے سب مرکزی کاموں میں مصروف ہیں۔اگر قادیان کے چار ہزار افراد میں سے تین ہزار نو سو پچاس دین کا ہے مرکزی کام کر رہے ہوتے ، جسے چھوڑ کر باہر جانا اُن کے لیے ناممکن ہوتا تو میں مان لیتا کہ وہ چالیس پچاس جو تمسخر کے طور پر پندرہ دن کے بعد ایک دفعہ بٹالہ یا امر تسر چلے جاتے ہیں۔یہ اُن کا پندرہ روزہ تبلیغ کے لیے باہر جانا اپنے اندر کوئی معقولیت رکھتا ہے۔مگر میں تو دیکھتا ہوں کہ ان تین ہزار نو سو پچاس لوگوں میں سے اکثر ایسے ہیں جو مرکز میں دین کا کوئی کام نہیں ہے کرتے۔وہ رات دن دنیا کے کاموں میں مصروف رہتے ہیں۔کوئی اپنی تجارت کے کام میں لگا ہوا ہے، کوئی زراعت کے کام میں لگا ہوا ہے ، کوئی صنعت و حرفت کے کام میں لگا ہوا ہے دین متی سے ان کو کوئی مش ہی نہیں۔جب حالت یہ ہے تو ان پچاس آدمیوں نے کرنا ہی کیا ہے اور ان کا اثر ہی کیا ہو گا۔اور وہ بھی ایسی حالت میں کہ پندرہ روز کے بعد ایک دن اُٹھے اور دورہ