خطبات محمود (جلد 25) — Page 413
1944ء 413 خطبات محمود پیش کی گئیں تو وہ اُنہیں نئی سمجھنے لگ گئے۔ لیکن ججوں جوں اُنہیں معلوم ہو رہا ہے کہ آپ نے اصلاح کرکے جو تعلیم پیش فرمائی ہے وہی اصل دین ہے تو اسے مانتے جارہے ہیں۔ مثلاً حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کا اقرار بڑے بڑے علماء کر رہے ہیں۔ پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قرآن کریم کے نئے نئے معارف بیان کیے۔ پہلے لوگ کہتے تھے کہ جو تفسیریں لکھی جاچکی ہیں اُن سے باہر کوئی معنی کرنا جائز نہیں۔ مگر اب دوسرے لوگ بھی یہ کوشش کرتے رہتے ہیں کہ نئے نئے مطالب بیان کریں۔ غرض کوئی ایک اصلاح نہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے درجنوں اور بیسیوں نہیں بلکہ سینکڑوں غلطیاں ہیں جو آپ نے نکالیں اور بتایا کہ ان سے یہ یہ نقصان پہنچا ہے۔ پھر جو اصلاح فرمائی اب دنیا اُسی طرف آرہی ہے۔ اِس سے معلوم ہوا کہ آپ کے آنے کی خاص ضرورت تھی اور ایک عظیم الشان کام تھا جو آپ کے سپر د کیا گیا۔ مگر اب دعوی کرنے والے صرف یہ کہہ دیتے ہیں کہ ہم پر یہ تجلی ہوئی اور یہ الہام ہوا ہے، کر کے کچھ نہیں دکھاتے اور نہ یہ بتاتے ہیں کہ ان کے سپر د اصلاح کا کیا کام کیا گیا ہے۔ یہ علم عربی نہ جاننے اور دین کی حقیقت نہ سمجھنے کی وجہ سے ہے۔ اور اسی وجہ سے ایسے مدعیوں کو کچھ ایسے لوگ بھی مل جاتے ہیں جو اُن کی ہاں میں ہاں ملانا شروع کر دیتے ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد عربوں میں بھی کئی مدعی کھڑے ہو گئے تھے۔ گو وہ جھوٹے تھے مگر کچھ نہ کچھ ثبوت تو اپنے دعوے کے متعلق پیش کرتے تھے۔ گو وہ کیسا ہی بیہودہ ہوتا تھا۔ یہ تو نہ کہتے کہ ہم مامور ہیں، ہم پر خدا کی کامل تجلی ہوئی ہے مگر اس کا ہم کوئی ثبوت نہیں دیتے۔ کچھ اور نہیں تو وہ یہی کہہ دیتے کہ ہمارے دعوی کا ثبوت یہ ہے کہ ہم دو من لکڑیاں پھاڑ سکتے ہیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاول کے زمانہ میں ایک شخص محمد بخش ہوتا تھا۔ تھی تو یہ لغو ہی بات مگر مناسبت کی وجہ سے اِس کا ذکر کیا جاتا ہے۔ ایک لڑکے نے اُسے کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو تو غیر زبانوں میں بھی الہام ہوتے تھے تم جو دعوی کرتے ہو کیا تمہیں بھی ایسے الہام ہوتے ہیں؟ اُس نے کہا ہاں! مجھے بھی انگریزی میں یہ الہام ہوا ہے کہ