خطبات محمود (جلد 25) — Page 409
$1944 409 خطبات محمود اور کوئی کہیں اور بیٹھا دعوی کر دیتا ہے کہ میں مصلح موعود ہوں اور میں دنیا کی نجات کے لیے مبعوث ہوا ہوں۔چونکہ نہ انہیں علم دین حاصل ہے اور نہ خدمت دین کرنے والے اور تبلیغ اسلام میں حصہ لینے والے آدمی اُن کے پاس ہیں اس لیے ان کے پاس ایک ہی چیز رہ جاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ کوئی بڑا سا دعوی کر دیں تاکہ لوگ سمجھیں کہ کچھ نہ کچھ تو ہے۔حالانکہ مصلح خدا تعالیٰ نام کے لیے نہیں بھیجتا بلکہ کام لیے بھیجتا ہے۔اور یا تو اُس کا کام وہی ہو تا ہے جو اُس سے پہلے نبی نے جاری کیا ہوتا ہے اور یا پھر پہلے نبی کی تعلیم کو لوگ بھول چکے ہوتے ہیں وہ اُس کو دوبارہ زندہ کرتا ہے۔اگر تو وہ اُس کام کو جاری رکھنے کے لیے آتا ہے تو جماعت اُس کی مخالفت نہیں کرتی بلکہ تسلسل قائم رہتا ہے۔وہ آگے آگے چلتا ہے اور جماعت اس کے پیچھے چلتی ہے مگر رستہ وہی ہوتا ہے جو پہلے نبی نے بتایا ہوتا ہے۔یا پھر مصلح کا یہ کام ہوتا ہے کہ نبی کی تعلیم میں جو بگاڑ پیدا ہو جائے اُس کو دور کر کے صحیح تعلیم اور صحیح نقشہ پیش ہے کرے۔مگر یہ باتیں ان دعوی کرنے والوں کے پاس نہیں ہو تیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسلام کی اس تعلیم کی جسے بگاڑ دیا گیا تھا جو اصلاح کی ہے قرآن کریم کے ذریعہ اور الہام الہی کے ذریعہ ، اس کے ہوتے ہوئے کسی اور اصلاح کی ضرورت نہیں ہے۔الہام، وحی، معجزات، ملائکہ، یوم آخرت وغیرہ مسائل کے سمجھنے میں لوگوں کو جو غلطی لگی ہوئی تھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسے دور کر کے ان مسائل کو صاف کر دیا ہے ہے۔اسی طرح ناسخ و منسوخ، اِحیائے موتی وغیرہ مسائل میں لوگوں نے جو گڑ بڑ پیدا کر دی تھی اسے دور کر دیا ہے۔اب دعوی کرنے والے بتائیں کہ اسلام کی تعلیم میں جو خرابیاں پیدا کر دی گئی تھیں انہیں دور کرنے میں کوئی کسر رہ گئی ہے کہ خدا تعالی نے کسی اور مدعی کو بھیجنا ہے تھا۔دراصل یہ ساری خرابی دین سے ناواقفیت کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔اگر خدا تعالیٰ نے ایسے ہی مدعیوں کو سچا بنایا ہو تا تو ان کو کچھ عطا بھی کرتا اور اُن پر انعام بھی نازل کرتا۔مگر اس قسم کی ہے کوئی بات ان میں نہیں پائی جاتی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں ایک شخص یہاں آیا۔اس کے متعلق لوگوں نے آپ سے عرض کیا کہ وہ الہام کا دعوی کرتا ہے۔آپ نے اُسے بلا کر پوچھا ہے