خطبات محمود (جلد 25) — Page 408
خطبات محمود 408 ، ا $1944 دوسری قسم کا مصلح اُس وقت آتا ہے جب قوم کی قوم بگڑ جاتی ہے اور اصل دین کھو بیٹھتی ہے۔دیکھو! حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے وہی باتیں پیش فرمائیں جو اسلام نے پیش کی ہیں۔لیکن مسلمان چونکہ بگڑ چکے تھے ، اسلام کی اصل تعلیم فراموش کر چکے تھے اور سراسر غلط عقائد پر قائم تھے اس لیے غیر احمدیوں نے یہ سمجھا کہ آپ نے ہر بات نئی اور خود ساختہ پیش کی ہے۔لیکن میرے وقت میں جماعت کی اکثریت اور بہت بڑی اکثریت وہی باتیں مانتی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پیش فرمائیں اور وہی کہتی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کہا۔کیونکہ خدا تعالی کے فضل سے جماعت حضرت می مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اصل تعلیم پر قائم ہے۔غرض ہمارے راستہ میں بہت سی دقتیں ہیں۔بعض لوگ یہ تو مان لیتے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سچے تھے لیکن یہ مان لینے سے اُن کی دوڑ نماز ، روزہ، حج، زکوۃ وغیرہ مسائل تک ہی ہوتی ہے۔چونکہ ہماری دینی زبان عربی ہے اور وہ عربی زبان سے ناواقف ہوتے ہیں اس لیے دین کے مغز تک نہیں پہنچتے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کسی کو کوئی ایک ہے آدھ رؤیا ہو گیا تو وہ کہنے لگ جاتا ہے کہ ہم پر وحی نازل ہوتی ہے اور ہم مامور ہیں۔پھر اس کے ساتھ جب اُسے خیال آتا ہے کہ دعوای تو کر دیا مگر کام کچھ ہے نہیں۔لوگ متوجہ کیونکر ہوں گے۔تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کوئی تو کہہ دیتا ہے کہ میں محمد ہی مقام پر فائز ہوا ہوں اور کوئی ہے اس سے بھی بڑا مقام اپنے لیے تجویز کر لیتا ہے۔دراصل وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلاة و والسلام سے آگے بڑھ جانے کے لیے اس قسم کی حرکات کرتے ہیں اور اصل چیز کو نہیں ہے دیکھتے۔ایسے لوگ جب دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم کی صحیح تفسیر تو وہی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پیش کی اور اس کی رو سے ان کے لیے کسی قسم کے دعوی کی کوئی ہے گنجائش باقی نہیں ہے۔تو وہ خیال کرتے ہیں کہ جب تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے جدا نہ ہوں گے اُس وقت تک کام نہیں بنے گا۔کیونکہ لوگ پوچھیں گے کہ جب باتیں وہی ہیں تو آپ کے تشریف لانے کی کیا ضرورت تھی اور اس طرح اپنا اڈہ قائم نہیں کیا جاسکے گا۔اس لیے وہ ساتھ نہیں رہتے بلکہ الگ راہ اختیار کر لیتے ہیں۔کوئی تیا پور میں ، کوئی لاہور میں