خطبات محمود (جلد 25) — Page 407
1944ء 407 خطبات محمود بات نہ ہو گی۔ ایک عرصہ کے بعد ہر ایک جماعت ایسی ہو ہی جاتی ہے۔ اِس وجہ سے کسی جماعت کو ناکام نہیں کہیں گے۔ لیکن اگر جماعت کی وہ اکثریت جو نبی کے ہاتھ پر جمع ہوئی ہو اپنی زندگی میں تباہ ہو جائے اور گمراہی کے گڑھے میں جا گرے اور اصل تعلیم پر قائم نہ رہے تو ایسا مامور جھوٹا ثابت ہوگا۔ غرض جماعت احمدیہ میں تو مصلح موعود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مشن اور آپ کی تعلیم کو پھیلانے کے لیے آیا ہے۔ اب چاہے خدا تعالیٰ اسے اتنی کامیابی اور اتنی عظمت دے کہ دنیا کے کناروں تک اسلام پھیل جائے اور ایمان زمین سے عرش تک پہنچ جائے ۔ جماعت چلے گی اُدھر ہی جدھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے چلایا ہے اور اُسی تعلیم پر عمل کرے گی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پیش فرمائی ہے۔ اس سے ذرا بھی اِدھر اُدھر ہونے میں تباہی و بربادی ہے اور ایسے لوگوں کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کوئی تعلق اور واسطہ نہیں ہو سکتا۔ اسی بات کے نہ سمجھنے کی وجہ سے جتنے مدعی کھڑے ہوتے ہیں وہ کوئی اور راہ اختیار کر کے کہتے ہیں کہ ہم جماعت کی اصلاح کرنے کے لیے آئے ہیں۔ دراصل انہوں نے اصل حقیقت کو سمجھا ہی نہیں۔ بلکہ جیسا کہ میں بتا چکا ہوں مصلح دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ مصلح جو نبی کے بعد اس لیے آتا ہے کہ اُس کے کام کو جاری رکھے اور اُسے وسعت دے۔ جیسے حضرت سلیمان حضرت داؤد علیہ السلام کے بعد اور یوشع حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد آئے۔ اُس وقت بنی اسرائیل میں کوئی خرابی نہ پیدا ہو گئی تھی بلکہ اس لیے آئے تھے کہ حضرت موسی علیہ السلام نے جو تعلیم دی تھی اُسے پھیلائیں اور ترقی دیں۔ اُس وقت یہودی اپنی غلطی سے تائب ہو چکے تھے۔ حضرت یوشع نے آکر انہیں بت پرستی کے گڑھے سے نہیں نکالا۔ ثبت پرستی سے تو وہ حضرت موسی علیہ السلام کے وقت میں ہی نکل چکے تھے۔ حضرت یوشع نے یہی کہا کہ میں موسی کا شروع کیا ہوا تسلسل قائم رکھنے کے لیے آیا ہوں۔ اسی طرح مصلح موعود کا جماعت احمد یہ میں آنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے تسلسل کو قائم رکھنے کے لیے ہے اور اُسی مقصد کو پورا کرنے کے لیے آیا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا تھا۔ نہ یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جو جماعت قائم فرمائی ہے وہ بگڑ چکی ہے اور اس کی اصلاح کے لیے آیا ہے۔