خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 373 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 373

1944ء 373 خطبات محمود وہ کون ہے۔ انہوں نے سمجھا کہ کوئی مسافر ہے جو اسی جہاز سے سفر کر رہا ہے یا کوئی اور گمنام شخص ہے۔ انہیں یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ اس شخص کا کیا عہدہ ہے یا کیا کام کرتا ہے۔ ایک دن ایک سپاہی جو پہرے پر مقرر تھا اُس کی غفلت کی وجہ سے ایک توپ کا ہک گھل گیا۔ جہاز میں جب تو ہیں رکھی جاتی ہیں تو انہیں باندھ کر رکھا جاتا ہے۔ کیونکہ تو پیں بڑی بڑی وزنی ہوتی ہیں۔ اگر انہیں باندھا نہ جائے تو جہاز کے چلتے وقت وہ لڑھکنے لگ جائیں اور جہاز چونکہ لکڑی کا ہوتا ہے اس لیے خطرہ ہوتا ہے کہ ٹوٹ کر ڈوب جائے۔ اسی وجہ سے جہاز میں بڑے بڑے ہک لگے ہوتے ہیں جن سے توپوں کو باندھ دیا جاتا ہے۔ ایک دن اتفاقاً سپاہی سے کوئی بے احتیاطی ہوئی اور ہک سے وہ رشہ نکل گیا جس سے توپ بندھی ہوئی تھی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تختہ جہاز پر توپ اِدھر اُدھر لڑھکنے لگی۔ توپ چونکہ سو سو بلکہ بعض دفعہ دو دو سو من کی ہوتی ہے، اِس لیے جب وہ دائیں طرف لڑھکتی تو جہاز دائیں طرف جھک جاتا اور جب بائیں طرف لڑھکتی تو جہاز بائیں طرف جھک جاتا۔ سمندر کی لہروں کی وجہ سے جہاز پہلے ہی خطرے کی حالت میں تھا۔ اب توپ کے کھل جانے کی وجہ سے یہ خطرہ اور بھی بڑھ گیا اور یہ سمجھ لیا گیا کہ جہاز ٹوٹ کر غرق ہو جائے گا۔ لوگوں میں سخت گھبراہٹ پیدا ہو گئی اور انہوں نے لحاف اور تو شکیں اور کمبل وغیرہ اکٹھے کر کے توپ کے آگے پھینکنے شروع کر دیئے تا کہ اُس کا راستہ رُک جائے اور وہ حرکت نہ کر سکے۔ مگر توپ کا لڑھکنا نہ رُکا اور لوگوں کو زیادہ سے زیادہ اس امر کا یقین ہو تا چلا گیا کہ اب جہاز ضرور ڈوب جائے گا۔ جب بالکل مایوسی کی حالت پیدا ہو گئی تو وہی سپاہی جس سے یہ غفلت ہوئی تھی گود کر اُس تختے پر چلا گیا جہاں توپ کا ہک تھا اور جہاں اُس کو باندھا جانا تھا۔ جب لڑھکتے لڑھکتے توپ اُس مقام پر پہنچی تو لوگوں نے یہ یقین کر لیا کہ اب یہ شخص اس توپ کے نیچے پس جائے گا۔ مگر وہ نڈر ہو کر کھڑا رہا۔ جب توپ ہک کے پاس پہنچی تو اُس نے دوڑ کر اُس کا رشتہ ہک میں ڈال دیا اور اتفاق ایسا ہوا کہ رشہ ہک میں پھنس گیا اور توپ باندھی گئی۔ اب ایسا سو میں سے ایک دفعہ بلکہ ہزار میں سے ایک دفعہ ہی ہو سکتا ہے۔ ورنہ نو سو ننانوے دفعہ ایسے حالات کے پیدا ہونے پر یہی یقین ہوتا ہے کہ جہاز ٹوٹ جائے گا اور سب لوگ غرق ہو جائیں گے۔ لوگ بھی اُس وقت یہی سمجھتے تھے کہ اس شخص کے جسم پر سے توپ