خطبات محمود (جلد 25) — Page 337
1944ء 337 خطبات محمود وقار کے خلاف ہے۔ اسلام یہ ہدایت دیتا ہے کہ جب انسان سجدہ میں جائے تو آہستگی سے جائے، گھٹنوں کو آرام سے زمین پر رکھے۔ پھر آرام سے زمین پر ہاتھ رکھے اور پھر سجدہ میں اپنا سر جھکا دے۔ ان تمام حرکات میں مومنانہ و قار مد نظر رکھنا چاہیے۔ یہ چیز بھی اہم اصول میں سے ہے اور اس سے انسان کے دل میں نور پیدا ہوتا ہے۔ جو شخص جلدی جلدی حرکات کرتا ہے وہ چاہے پندرہ منٹ کا سجدہ کرے اسے وہ فائدہ کبھی حاصل نہیں ہو سکتا جو اُس شخص کو حاصل ہو سکتا ہے جو گو دو منٹ کا سجدہ کرے مگر اپنی تمام حرکات میں وقار مد نظر رکھے اور آہستگی کے ساتھ تمام ارکانِ نماز بجالائے۔ اگر لمبا سجدہ کرنے والا نماز کی درمیانی حرکات کو بھی آہستگی سے ادا کرے تب اسے دوسروں سے زیادہ فائدہ ہو فائدہ ہوگا۔ لیکن اگر وہ نماز کی حرکات کرتے وقت تو آ تو آہستگی سے کام نہیں لیتا اور سجدہ میں زیادہ وقت صرف کر دیتا ہے تو اس سے شخص زیادہ فائدے میں رہے گا جو کو سجدہ چھوٹا کرتا ہے ( یہ مطلب نہیں کہ وہ بالکل چھوٹا ہو وہ بلکہ مطلب یہ ہے کہ نسبتا چھوٹا سجدہ کرتا ہے) لیکن ارکان آہستگی سے ادا کرتا ہے۔ ایسے شخص کے قلب میں یقیناً دوسرے سے زیادہ نور پیدا ہو گا اور وہ دوسرے ۔ ے سے بہت زیادہ اللہ تعالیٰ کے قرب میں بڑھ جائے گا۔ پس ہر شخص کو نماز پڑھتے وقت اپنی حرکات کا خصوصیت سے خیال رکھنا چاہیے اور کوشش کرنی چاہیے کہ اُس کی حرکات ایسی ہوں جیسے بادشاہ کے سامنے کوئی موڈب انسان کرتا ہے۔ دوسری چیز جس کی طرف میں جماعت کو توجہ دلانا چاہتا ہوں ذکر الہی ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ ابھی تک ہماری جماعت میں ذکر الہی کی پوری اہمیت نہیں پائی جاتی۔ حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے ہر نماز کے بعد انسان کو تینتیس دفعہ تسبیح، تینتیس دفعہ تحمید اور چونیتس دفعہ تکبیر کہنی چاہیے اور اس بات کو آپ نے اتنی اہمیت دی ہے کہ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس غرباء آئے اور انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ کی جماعت میں کچھ امراء بھی ہیں۔ جو کچھ ہم کرتے ہیں وہی کچھ وہ بھی کرتے ہیں، جیسے ہم جہاد کرتے ہیں ویسے ہی امراء جہاد کرتے ہیں، جس طرح ہم نمازیں پڑھتے ہیں اسی طرح امراء نمازیں پڑھتے ہیں، جس طرح ہم روزے رکھتے ہیں اُسی طرح امراء کی