خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 336 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 336

خطبات محمود 336 $1944 سجدہ میں جائے تو اُس وقت بھی اپنی حرکات میں وقار مد نظر رکھے۔یہ نہ ہو کہ وہ گود کر سجدہ میں چلا جائے۔اسی طرح دو سجدوں کے درمیان جب بیٹھے تو ایک باوقار انسان کی طرح آہستگی سے اپنا سر اٹھائے اور اطمینان کے ساتھ بیٹھ کر مسنون دعائیں پڑھے۔پھر جب سلام پھیر نے لگے تو اُس وقت بھی اِس ہدایت کو مد نظر رکھے۔یہ نہ ہو کہ جس طرح کل والا بت حرکت کرتا ہے اسی طرح جلدی سے اُس کی گردن ایک دفعہ دائیں طرف مڑ جائے اور دوسری دفعہ بائیں طرف اور وہ نماز سے فارغ ہو جائے۔یہ ساری چیزیں نماز کے اثر کو زائل کرنے اور اس کے فوائد کو باطل کرنے والی ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان امور کا اس قدر خیال رکھا ہے کرتے تھے کہ ایک دفعہ آپ مسجد میں تشریف رکھتے تھے کہ ایک شخص آیا اور اُس نے نماز شروع کر دی۔جب وہ نماز ختم کرچکا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا کہ تمہاری نماز نہیں ہوئی پھر پڑھو۔اُس نے پھر نماز پڑھی۔جب فارغ ہو چکا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم پھر نماز پڑھو کیونکہ تمہاری نماز نہیں ہوئی۔اُس نے پھر نماز پڑھی۔اس دفعہ نماز سے فارغ ہوا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا تمہاری نماز نہیں ہوئی۔آخر جب کئی دفعہ اسی طرح ہوا تو وہ کہنے لگا یار سول اللہ ! مجھے تو کسی اور طرح نماز پڑھنی نہیں آتی۔آپ ہی بتائیں میں کس طرح نماز پڑھوں؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب تم نماز پڑھو تو ٹھہر ٹھہر کر اور آہستگی اور و قار سے تمام حرکات ادا کر و۔مگر میں دیکھتا ہوں اِس طرف ہماری جماعت کے دوستوں کی بہت کم توجہ ہے۔بعض لوگ سجدہ بھی لمبا کر لیں گے لیکن جب اٹھنے لگیں گے تو اس طرح جلدی سے اٹھ کر بیٹھ جائیں گے جیسے کسی مشین کے اوپر سے کوئی تختہ اٹھا دیا جائے تو یکدم مشین باہر نکل آتی ہے۔یا سجدہ میں جانے لگیں گے تو ایسا معلوم ہو گا جیسے کسی نے ان کو دھکا ہے دے دیا ہے۔یہ ساری باتیں وقار کے خلاف اور نماز کی روح کو نقصان پہنچانے والی ہیں۔اسی طرح میں نے دیکھا ہے سجدہ میں جاتے وقت کھٹاکھٹ کی آواز آنی شروع ہو جاتی ہے جس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ وہ گود کر سجدے میں جانے کی کوشش کرتے ہیں۔گویا کھڑے کھڑے وہ تنگ آچکے تھے اور اس لیے سجدے میں زمین پر گھنٹے مار کر جاتے ہیں۔یہ بھی