خطبات محمود (جلد 25) — Page 335
1944ء 335 خطبات محمود میں نے کچھ عرصہ ہوا دوستوں کو نماز باجماعت پڑھنے کی تحریک کی تھی۔ خدا تعالیٰ کے فضل سے قادیان میں اکثر لوگ با جماعت نماز پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں اور بہت کم ہیں جو اس میں سستی کرتے ہیں۔ لیکن پھر بھی لوگوں کو بیدار کرنے اور ان میں زیادہ مستعدی پیدا کرنے کے لیے میں نے یہ تحریک کی اور میں نے دیکھا کہ اس وقت نماز با جماعت کا چرچا بہت زیادہ ہو گیا اور مساجد میں پھر آبادی بڑھ گئی۔ اب میری تحریک پر لوگ مسجد مبارک میں نماز پڑھنے کے لیے آنے شروع ہو گئے ہیں اور گوا بھی اتنے لوگ نہیں آئے جتنے آسکتے ہیں یا جتنے لوگوں کو با قاعدگی کے ساتھ مسجد مبارک میں نماز پڑھنے کے لیے آنا چاہیے لیکن بہر حال لوگوں میں تحریک ہوئی اور انہوں نے نماز کے لیے مسجد مبارک میں آنا شروع کر دیا۔ لیکن اس کے علاوہ نماز کے بعض حصے ایسے ہیں جن کی طرف ابھی قادیان کے لوگ بھی متوجہ نہیں اور باہر کی جماعتیں بھی ان امور کی طرف بہت کم توجہ کرتی ہیں۔ نماز کی ایک خصوصیت یہ ہوا کرتی ہے کہ اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھا جائے۔ مگر میں دیکھتا ہوں ابھی جماعت میں یہ احساس پورے طور پر پیدا نہیں ہوا کہ وہ نمازیں آہستگی اور اطمینان کے ساتھ پڑھا کریں۔ ان کی نمازیں بے شک غیر احمدیوں سے اچھی ہوتی ہیں جو اس طرح پڑھتے ہیں جیسے مر غادا نے چنتا ہے۔ لیکن ایسی بھی نہیں ہوتیں جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا منشا ہے کہ نمازیں پڑھی جائیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس امر کی بڑی تاکید فرمائی ہے کہ جب انسان سجدہ میں جائے تو تمام کلمات عمدگی سے ادا کرے، جب کھڑا ہو تو سورہ فاتحہ اور قرآن مجید کا کچھ حصہ یا صرف سورۂ فاتحہ جیسی بھی صورت ہو اطمینان سے پڑھے اور ایک ایک لفظ کو آرام اور سکون کے ساتھ ادا کرے۔ جب رکوع میں جائے تو اسی طرح رکوع کی تسبیح آہستگی اور عمدگی سے کرے جلدی جلدی اپنی زبان سے کلمات نہ نکالے۔ لیکن اس کے علاوہ نماز کا یہ بھی ایک اہم حصہ ہے کہ رکوع اور سجدہ وغیرہ کی حرکات وقار کے ساتھ کی جائیں۔ جب انسان رکوع کی طرف جائے تو یہ نہ ہو کہ جلدی سے رکوع میں چلا جائے بلکہ آہستگی اور وقار کے ساتھ جائے۔ جب رکوع سے اٹھے تو جلدی سے نہ اٹھے بلکہ آہستگی اور اطمینان کے ساتھ اس طرح اٹھے جیسے ایک باوقار انسان اٹھتا ہے۔ جب