خطبات محمود (جلد 25) — Page 316
1944ء 316 خطبات محمود جستجو تھی اور جس کو میں مل گیا اور جو مجھ پر ٹیک لگا کر ایسا لیٹا کہ پھر ادھر اُدھر اُس نے نہیں گیا لگا دیکھا۔ ارْجِعِي إِلى رَبِّكِ تُو نے جب مجھے دیکھ لیا تو تیرے دل سے کسی اور کی خواہش بالکل مٹ گئی۔ چونکہ تیرے دل میں میری بھی خواہش تھی اس لیے آ آ، اپنے رب کے پاس آجا۔ تجھے کسی اور طرف جانے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ تیری خواہش یہی تھی کہ تو میری گودی میں آجائے۔ پس تو آ اور میری گودی میں بیٹھ جا۔ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً ۔ تُو خوش ہو گیا کہ جس چیز کی تجھ کو تلاش تھی وہ تجھے مل گئی۔ مگر یہی نہیں کہ تو خوش ہو گیا کہ جس چیز کی تجھے تلاش تھی وہ تجھے مل گئی بلکہ بات یہ ہے کہ میں بھی خوش ہو گیا۔ کیونکہ جس طرح تجھے میری تلاش تھی اُسی طرح مجھے بھی تیری جستجو تھی۔ فَادْخُلِي فِي عِبْدِي وَادْخُلِي جَنَّتِي آ آ اب تُو میرے بندوں میں داخل ہو جا اور چونکہ اب تو میرے بندوں میں داخل ہو گیا ہے اس لیے جو چیز میری ہے وہ تیری ہے، جو میر امال ہے وہ تیر امال ہے۔ اور چونکہ میر امقام جنت ہے اس لیے تو بھی جنت میں آجا اور ان بندوں میں شامل ہو جا جو آقا سے دُوری نہیں رکھتے۔ آقا کی چیز ان کی چیز ہوتی ہے اور اُن کی چیز آقا کی چیز ہوتی ہے۔ اب میری چیزیں میری ہی نہیں بلکہ تیری بھی ہیں اور تیرا حق ہے کہ تو ان سے جس طرح چاہے حظ اٹھائے۔ ان آیات میں تمثیلی طور پر وہی بات بیان کی گئی ہے جو اس مثال میں بیان کی گئی تھی۔ جیسے اُس نے کہا کہ میں اپنی ہر چیز لے آیا ہوں۔ بیوی لے آیا ہوں کہ شاید کسی عورت کی خدمت کی ضرورت ہو ، مال لے آیا ہوں کہ شاید روپیہ کی ضرورت ہو، جان لے آیا ہوں اور ساتھ ہی لڑنے کی کے لیے تلوار بھی کہ شاید میری جان کی ضرورت ہو۔ اسی طرح فرمایا ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً تو چاہتا تھا کہ مجھ کو لے لے اور میرے پاس آجائے۔ پس چونکہ تو نے مجھ کو لے لیا اور میرے پاس آگیا اس لیے میرے پاس آنے کی وجہ سے جو کچھ میرا ہے وہ تیرا ہے۔ فَادْخُلِي فِي عِبْدِي وَادْخُلِي جَنَّتِی۔ نہ صرف میں نے تجھ کو اپنا وجو د دے دیا بلکہ تجھے کامیاب بھی کر دیا اور اپنی جنت میں تجھ کو داخل کر دیا۔ یہ یہ کیسی وفا اور اخلاص والی محبت ہے جو اللہ تعالیٰ ہم سے رکھتا ہے۔ پھر وہ ایسی محبت کا ہم سے بھی تقاضا کرتا ہے۔ خواہ وہ ہم سے ایک ہزار سال تک انتظار کرائے اور پھر کہے