خطبات محمود (جلد 25) — Page 314
1944ء 314 خطبات محمود طبقے کا ہے کہ ایک جھونپڑی میں رہتا ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد اندر سے آواز آئی کہ کون ہے ؟ اس نے اپنا نام لیا کہ میں ہوں اور ایک ضروری کام کے لیے آپ کے پاس آیا ہوں۔ اس آواز کو سننے کے بعد خاموشی طاری ہو گئی۔ دو منٹ، چار منٹ، دس منٹ ، بیس منٹ گزر گئے مگر کسی نے دروازہ نہ کھولا۔ بیٹے نے اپنے باپ سے کہا آپ کا دوست بھی ویسا ہی نکلا جیسے میرے دوست تھے۔ باپ نے کہا ذرا ٹھہر جاؤ میرا دوست ایسا نہیں ہے۔ معلوم نہیں کیا وجہ پیش آئی کہ اُس نے نکلنے میں دیر لگا دی ہے۔ تھوڑی دیر گزری تو دروازہ کھلا اور اندر سے معمولی غریبانہ لباس میں ایک شخص نکلا جس کے ساتھ اُس کی عورت تھی۔ ہاتھ میں تلوار تھی اور کمر کے ساتھ ہمیانی 1 بندھی ہوئی تھی جس میں روپے تھے۔ اُس نے باہر نکل کر السَّلَامُ عَلَيْكُمْ کہا اور پھر پوچھا کہ کیا کام ہے ؟ اُس نے کہا کام تو پھر بتاؤں گا پہلے تم یہ بتاؤ کہ تم نے باہر نکلنے میں دیر کیوں لگاتی ہے ؟ وہ کہنے لگا میرے آپ کے ساتھ مدت سے دوستانہ تعلقات ہیں اور ہم کبھی کبھار آپس میں مل بھی لیتے ہیں۔ ہمیں ایک دوسرے پر کامل یقین اور اعتبار ہے کہ آپ کو کوئی ضرورت پیش آئے تو میں آپ کے کام آؤں گا اور اگر مجھے کوئی ضرورت پیش آئے تو آپ میرے کام آئیں گے۔ لیکن یہ واقعہ کہ رات کو آپ میرے پاس تر آئے ہوں اور آپ نے میرا دروازہ کھٹکھٹایا ہو ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔ پس جب آپ نے دروازہ کھٹکھٹایا تو میں نے سمجھ لیا کہ ضرور کوئی بڑی مصیبت آئی ہے تبھی آپ رات کو میرے پاس آئے ہیں۔ لیکن میں نے کہا خواہ کوئی بھی مصیبت ہو مجھے اس کے لیے تیار رہنا چاہے۔ چنانچہ میں نے سوچا کہ میرے پاس تین چیزیں ہیں۔ ایک میری بیوی ہے، کچھ ساری عمر کا اندوختہ پانچ سو روپیہ ہے جو زمین میں دفن ہے جو ایک چھوٹی موٹی ملازمت سے میں نے تھوڑا تھوڑا کر کے جمع کیا ہے اور ایک میری جان ہے۔ میں نے خیال کیا کہ گو آپ بڑے آدمی ہیں مگر کسی وقت بڑے آدمی کو بھی کوئی مصیبت پیش آجاتی ہے۔ شاید آپ کو روپیہ کی ضرورت ہو اور اِسی لیے آپ میرے مکان پر تشریف لائے ہوں۔ سو میں اٹھا اور روپیہ نکالنے لگا اور اسی وجہ سے مجھے دیر لگی ہے۔ کیونکہ میں غریب آدمی ہوں اور میں نے ایک گہرا گڑھا کھود کر وہاں پانچ سو روپیہ دفن کیا ہوا تھا گڑھے کے کھودنے اور روپیہ نکالنے میں کچھ دیر ہو گئی۔ مگر