خطبات محمود (جلد 25) — Page 312
خطبات محمود 312 $1944 حضرت مسیح ناصری نے کہا میں جاتا ہوں تاکہ خدا تمہاری طرف دوسری قدرت بھیج دے اور میں اس لیے جاتا ہوں تاکہ خدا کی طرف سے تمہارے لیے فارقلیط آئے۔لوگوں نے انتظار کیا اور کرتے چلے گئے۔مگر آخر انہوں نے کہا فارقلیط کلیسیا ہی ہے۔آخر چندم صدیوں یعنی چھ سو سال کے بعد محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعہ وہ فارقلیط ظاہر ہوا اور وہ لوگ جو انتظار کر کے تھک چکے تھے اُس فارقلیط پر ایمان لانے سے محروم رہ گئے۔صرف وہ چند لوگ جو اس امید میں زندہ رہے اور اس کا ایک لمبے عرصہ تک انتظار کرتے چلے گئے ہیں انہوں نے اس کو پالیا۔تو خدا تعالیٰ کی طرف سے بھی اتنا لمبا انتظار کرنا پڑتا ہے کہ قوم کی قوم ہے سو جاتی ہے اور کبھی وہ گھڑی اتنی قریب کر دی جاتی ہے کہ لوگ ابھی ہتھیار بھی سنبھالنے نہیں پاتے کہ لڑائی ختم ہو جاتی ہے۔وہی شخص کامیاب ہوتا ہے جو اپنے آپ کو ہر وقت تیار رکھتا ہے ہے اور سمجھتا ہے کہ نہ معلوم کب اور کس چیز کا میر ادوست مجھ سے مطالبہ کرے گا۔مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سچی دوستی کے متعلق ایک کہانی ہے سنایا کرتے تھے۔آپ فرمایا کرتے ایک امیر آدمی تھا جو بہت بڑا دولتمند تھا۔اُس کا ایک لڑکا تھا جس نے اپنی دولت کی وجہ سے کئی اوباش نوجوان اپنے ارد گرد جمع کر لیے تھے۔وہ ان کے لیے ہے قسم قسم کے کھانے تیار کر کے لے جاتا، قسم قسم کے شربت اُن کے پینے کے لیے تیار کراتا۔کبھی فالودہ اُن کو کھلاتا، کبھی پھل اُن کے سامنے پیش کرتا، کبھی مٹھائیاں ان کے لیے منگواتا ، کبھی عطر اور خوشبودار تیل اُن کو دیتا، کبھی مختلف قسم کی خوشبودار دھونیوں سے اُن کے کمرے کو معطر کرتا۔غرض ان کی مجلس خوب گرم رہتی۔وہ شربت پیتے رہتے ، کھانے کھاتے ہیں رہتے، مٹھائیاں اور پھل وغیرہ استعمال کرتے رہتے اور اقرار کرتے کہ ہم تجھ سے ایسی محبت کرتے ہیں کہ ہمارے جیسے دوست کبھی کسی کو میسر نہیں آئے۔باپ اپنے بیٹے کو ہمیشہ نصیحت ہے کرتا اور اسے کہتا کہ ان دوستوں کا کوئی اعتبار نہیں مگر وہ جواب میں یہی کہتا کہ انا آپ کو کیا ہے چند ؟ یہ دوست تو ایسے اچھے اور وفادار ہیں کہ ان سے بڑھ کر وفادار دوست اور کوئی ہو ہی نہیں ہے سکتا۔ایک دن باپ نے اپنے بیٹے سے کہا اگر تمہاری یہ بات درست ہے کہ یہ نوجوان تمہارے کچے دوست ہیں اور تمہیں میری بات پر اعتبار نہیں آتا تو تم اس کا تجربہ کر کے دیکھ لو۔تم