خطبات محمود (جلد 25) — Page 31
1944ء 31 خطبات محمود ہوتی ہے۔ آج ہمیں لاکھوں کروڑوں یہودی اس بات کے لیے تکلیف اٹھاتے نظر آتے ہیں کہ وہ دین موسوی کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ان کی تجار تیں توڑی جاتی ہیں، ان کے مکان اور جائیدادیں ضبط کی جاتی ہیں، انہیں قتل کیا جاتا ہے، انہیں ملک بدر کیا۔ بدر کیا جاتا ہے مگر وہ موسوی دین کے چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ حالانکہ موسوی دین کے ساتھ اب ان کا تعلق صرف سطحی رہ گیا ہے، حقیقی نہیں۔ اگر موسیٰ کی صحیح امت دنیا میں موجود ہوتی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کا زمانہ اس سے اور پیچھے جا پڑتا جس زمانہ میں آپ ظاہر ہوئے۔ بلکہ اگر موسیٰ کی امت حقیقی موجود ہوتی تو حضرت عیسی علیہ السلام کے آنے کی بھی اُس وقت ضرورت نہ ہوتی جب جب آپ مبعوث ہو ۔ مبعوث ہوئے۔ تو جو حقیقی تعلق موسوی قوم کو حضرت مو موسی علیہ السلام سے تھا وہ ہزاروں سال اپنے اصل مقام سے پیچھے ہٹ چکا تھا۔ کم سے کم دو ہزار سال سے وہ تعلق قطع ہو چکا تھا۔ مگر باوجود اس کے کہ وہ حقیقی تعلق کھو چکے تھے اس تعلق کی اہمیت اُن کے دلوں میں رہ گئی۔ اور اس اہمیت کے احساس کا صحیح طریق اب انہیں یہی نظر آتا ہے کہ وہ اپنی جائیدادوں سے بے دخل ہو جائیں، اپنے وطنوں سے الگ ہو جائیں، اپنے مال و اسباب کو قربان کر دیں، اپنی جانوں کو ہلاک کر دیں مگر موسوی دین سے ان کا جو اتصال ہو چکا ہے اس پر کوئی زونہ آنے دیں۔ لیکن وہی قوم جو آج صحیح طور پر موسوی تعلیم کو بھی نہیں سمجھتی، جو اس تعلیم پر عمل بھی نہیں کرتی جو اُسے دی گئی صرف اس کی اہمیت کا اثر اس کے دل پر باقی رہ گیا ہے۔ ایک زمانہ میں جبکہ یہ قوم صحیح طور پر موسوی تعلیم پر عمل کرنے کی کوشش کرتی تھی جبکہ موسوی دین سے اس کا تعلق موجودہ تعلق سے یقین ہزاروں گنا بڑھ کر تھا جبکہ موسی کی تعلیم کے زیر اثر اللہ تعالیٰ سے اتصال کی کوشش اس کا شب و روز کا کام تھا۔ اس کی حالت یہ تھی کہ اسے اتنا بھی معلوم نہ تھا کہ موسیٰ کے ساتھ مل کر دشمن سے جنگ کرنا کس قدر ضروری اور ان کی قومی زندگی کے لیے کیسا مفید ہے۔ بلکہ ایک موقع پر جب موسیٰ کو خدا تعالیٰ نے حکم دیا کہ آگے بڑھ کر دشمن کا مقابلہ کرو تو موسوی قوم کے لوگوں نے باوجود اس کے کہ وہ اس وقت کے یہود سے زیادہ نیک تھے ، اِس وقت کے یہود سے زیادہ خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے کے خواہش مند تھے حضرت موسی علیہ السلام سے کہہ دیا کہ اذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ ۔ کی