خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 305 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 305

خطبات محمود 305 $1944 چنانچہ پولیس گارڈ ہمارے آدمیوں کے آگے پیچھے ہو کر انہیں محفوظ جگہ پر پہنچا آئی۔مخالف خوش ہیں کہ انہوں نے شورش کی، پتھر برسائے اور گالیاں دیں۔مگر ہم خوش ہیں کہ ہماری ایک اور مماثلت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیدا ہو گئی۔وہ اپنے ہے نقطہ نگاہ سے خوش ہے اور ہم اپنے نقطہ نگاہ سے خوش ہیں۔دشمن اس بات پر خوش ہے کہ اس نے سینکڑوں کی تعداد میں جمع ہو کر عورتوں کی موٹروں اور لاریوں پر حملے کیے۔مگر ہم خوش ہیں کہ ہمارے چند نوجوانوں نے اپنی جانیں ہتھیلیوں پر رکھ کر نہ صرف اپنی عورتوں کی بلکہ غیر احمدی اور غیر مسلم عورتوں کی بھی حفاظت کی۔وہ خوش ہیں کہ انہوں نے بہت شور مچایا اور ہم خوش ہیں کہ اس قسم کے ماحول کے باوجود جبکہ ہمارے چاروں طرف دشمن ہی دشمن تھے اللہ تعالی نے ہمیں توفیق دی کہ ہم اپنی آواز کو آخر تک سنا سکے۔دشمن خوش ہے کہ اس می نے گندی گالیاں دیں، ماؤں اور بہنوں کی فحش اور گندی گالیاں دیں اور ہم خوش ہیں کہ ہمیں خدا تعالیٰ کی خاطر ایسی گالیاں سننی پڑیں۔وہ خوش ہیں اس لیے کہ اپنے اخلاق کے مطابق انہیں کامیابی ہوئی اور ہم خوش ہیں کہ اپنے اخلاق کا مظاہرہ کرنے میں ہم کامیاب ہوئے۔وہ اس پر خوش ہیں کہ انہوں نے خدا تعالی کی آواز کو دبانے کی کوشش کی۔مگر ہم اس پر خوش ہے ہیں کہ باوجود اس قدر مخالف حالات کے ہم خدا تعالیٰ کی آواز پہنچانے میں کامیاب ہوئے۔وہ اس پر خوش ہیں کہ وہ یہ مال و دولت لے کر گھروں کو کوٹے کہ انہوں نے گندی گالیاں دیں، پتھر مارے اور عورتوں پر حملے کیے۔مگر ہم خوش ہیں کہ خدا تعالی کا پیغام ہم پہنچا سکے اور اپنی عزت، آبرو اور جان قربان کر کے اللہ تعالیٰ کی مشینت کو پورا کرنے میں کامیاب ہوئے۔اور اس طرح وہ غلاظت کی پوٹلیاں لے کر اپنے گھروں کو گئے اور ہم خدا تعالیٰ کا نور اور اس کی رضا کو لے کر گھروں کو کوٹے اور اب دنیا خود فیصلہ کر سکتی ہے کہ جیت ہماری ہوئی یا ہمارے دشمنوں کی ؟ اگر یہ صحیح ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ان کی امت کے اعمال پیش ہوتے رہتے ہیں تو کوئی ایک مسلمان بھی ہے جو اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر کہہ سکے کہ وہ گندی اور فحش گالیاں جو ان لوگوں نے دہلی میں ہمیں دی ہیں جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پیش کی جائیں گی تو آپ کا دل خوش ہو گا یا اس بات پر کڑھے گا کہ آپ کی مینی