خطبات محمود (جلد 25) — Page 293
1944ء 293 خطبات محمود ہماری جماعت کے نوجوانوں کو انگریزی یا دنیوی تعلیم ایسے رنگ میں دلائی جائے کہ بجائے اس کے کہ وہ تعلیم انہیں اسلام اور ایمان سے بے بہرہ کرنے والی ہو وہ اُن کے دلوں میں اسلام کی صداقت پر زیادہ سے زیادہ یقین اور وثوق پیدا کرنے والی ہو۔ بجائے اس کے کہ آئندہ سائنس اسلام پر کفر کو غالب قرار دے سکے ، سائنس کفر کو کھا جانے والی اور اسلام کو غالب و برتر ثابت کرنے والی ہو اور اس کی توپوں کا منہ اسلام کے قلعہ کی بجائے کفر کی طرف ہو اور اس کے گولے کفر کی دیواروں کو گرا رہے ہوں۔ اسی طرح ہمیں اپنی تمدنی اصلاح کی طرف ابھی بہت بڑی توجہ کی ضرورت ہے۔ ابھی تک خاوندوں کے بیویوں سے اچھے تعلقات نہیں ، بیویوں کے خاوندوں سے اچھے تعلقات نہیں، اولاد اپنے ماں باپ سے اچھے تعلقات نہیں رکھتی اور ماں باپ اولاد کے حقوق کی نگہداشت نہیں کرتے۔ دوستوں کے دوستوں سے اور ہمسایوں کے ہمسایوں سے اچھے تعلقات نہیں، دکاندار گاہکوں سے اچھی طرح پیش نہیں آتے، گاہک تاجروں کا خیال نہیں رکھتے، قرض لینے والے قرض واپس کرنے کا خیال نہیں کرتے اور قرض دینے والے مقروض کی مجبوریوں کا خیال نہیں رکھتے، استاد شاگردوں سے اچھی طرح پیش نہیں آتے اور شاگرد اُستادوں کا احترام نہیں کرتے۔ غرض ہمیں تمدنی اصلاح کی ابھی بہت بڑی ضرورت ہے۔ جب تک ہماری تمدنی اصلاح نہیں ہوگی اُس وقت تک دل صاف نہیں ہوں گے اور جب تک دل صاف نہیں ہوں گے ایمان پیدا نہیں ہو گا اور جب تک ایمان پیدا نہیں ہو گا اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل نہیں ہو گی۔ پس بہت بڑا کام ہے جو ہم نے سر انجام دینا ہے۔ بلکہ اتنے بڑے کام ہم نے کرتے ہیں کہ اگر ہم ان کو گننے لگیں تو شمار میں ہی نہ لا سکیں۔ یہ کام جب ہم نے کر لیے تو يَوْمُ الْجَزَاءِ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آجائے گا۔ جب کفر کو تباہ کر دیا جائے گا اور اسلام کو غالب کر دیا جائے گا۔ پہلے لوگوں سے یہ غلطی ہوئی کہ انہیں جب قیامت کی خبر دی گئی تو انہوں نے اُس کی حقیقت کو نہ سمجھا اور قیامت آنے سے پہلے اس کے لیے کوئی تیاری نہ کی۔ اب ہماری جماعت کی کے لیے خوف کا مقام ہے۔ ایسا نہ ہو کہ بعض نادان اب بھی قیامت کی حقیقت کو نہ سمجھیں اور