خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 289 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 289

1944ء 289 خطبات محمود گونزول الہام کے وقت میں نے اس کے وہی معنے سمجھے تھے جو میں نے ابھی بیان کیے ہیں۔ لیکن پھر بھی اس الہام کا ایک اور مطلب بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن وہ بھی اپنی ذات میں کوئی خوشکن نہیں۔ یعنی اس الہام کا ایک یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہر شخص جو تم میں سے اسلام اور احمدیت کی ترقی کے لیے کوشش کر رہا ہے اُس کی یہ کوشش اتنی تھوڑی اور اس قدر کم ہے کہ اُس کی اس کوشش اور جدوجہد کے مقابلہ میں اس کی زندگی کے جس قدر ایام ہیں ان میں ان کوششوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا۔ گویا تم میں سے ہر شخص جو کوشش آج اسلام اور احمدیت کے غلبہ کے لیے کر رہا ہے اگر مرتے دم تک وہ اسی رنگ میں کوشش اور جد وجہد کر تار ہے اور اپنا قدم تیز نہ کرے تو یہ کوششیں اس قدر کم ہیں کہ یہ خیال کرنا کہ ان کوششوں کے نتیجہ میں تم اسلام کا غلبہ اپنی آنکھوں سے دیکھ سکو گے یہ ناممکن ہے۔ اگر تمہاری کوشش اور جدوجہد کی یہی رفتار رہی تو تم اپنی زندگی میں یوم جزا کو نہیں دیکھ سکو گے۔ یہ معنے اگر لیے جائیں تو یہ بھی کوئی خوش کن معنے نہیں۔ مگر جو معنے اُس وقت میں نے سمجھے وہ یہی تھے کہ روز جزا قریب ہے کا مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے تم سے اسلام اور احمدیت کے غلبہ کے متعلق جو وعدے فرمائے ہیں اُن کے پورا ہونے کا وقت آگیا، آسمان پر فرشتوں کی فوجیں اُس دن کو لانے کے لیے تیار کھڑی ہیں۔ مگر جو کوشش تم کر رہے ہو وہ بہت ہی حقیر اور بہت ہی ادنی اور معمولی ہے۔ جب ہم نے اپنے فضل کا دروازہ کھول دیا، جب آسمان سے فرشتوں کی فوجیں زمین میں تغیر پیدا کرنے کے لیے نازل ہو گئیں، جب کفر کی بربادی کا وقت آپہنچا، جب اسلام کے غلبہ کی گھڑی قریب آگئی تو اُس وقت تم اگر پوری طرح تیار نہیں ہوگے، تم نے اپنے اندر کامل تغیر پیدا نہیں کیا ہو گا، تم نے اپنی اصلاح کی طرف پوری توجہ نہیں کی ہوگی تو نتیجہ یہ ہو گا کہ تم اس دن سے فائدہ اٹھانے سے محروم رہ جاؤ گے اور اسلام کی دائمی ترقی میں روک بن جاؤ گے۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ جس پانی کو سنبھالا نہ جائے وہ بجائے فائدہ پہنچانے کے لوگوں کو