خطبات محمود (جلد 25) — Page 285
خطبات محمود 285 $1944 اور باقی ہمیں دے دو۔نتیجہ یہ ہوا کہ کسی نے دو ایکٹر زمین رکھ لی، کسی نے چار ایکڑ زمین رکھ لی اور باقی سب زمین پر انگریز قابض ہو گئے۔اگر پنجابی زمیندار ہوتے تب بھی وہ تیس تیس چالیس چالیس ایکٹر زمین رکھ لیتے مگر انہوں نے صرف دو دو چار چار ایکڑ زمین اپنے پاس رکھی۔بلکہ بعض نے تو یہ بھی کہہ دیا کہ ہمیں اتنی زمین کی بھی ضرورت نہیں۔کیونکہ ہم اپنی زمین کو سنبھالنے کی طاقت نہیں رکھتے۔چنانچہ وہ سب زمین انگریزوں نے لے لی۔اور انہوں نے کہنا شروع کر دیا کہ ہم نے ظلم نہیں کیا بلکہ ان کی ضرورت سے جو نا کہ زمین تھی صرف وہ ہم نے متین اپنے قبضہ میں لی ہے۔تو جیسے افریقہ کے عبثی قبائل سے ہوا کہ مال تو ان کے پاس تھا مگر چونکہ وہ اُس کو سنبھالنے کی قابلیت نہیں رکھتے تھے اس لیے اُس پر دوسروں نے قبضہ کر لیا۔یہی کچھ ہمارے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ یقیناً ایک دن ایسا لائے گا جب دنیا کی حکومتیں اور طاقتیں ہمارے قبضہ میں آجائیں گی۔مگر جب اُن حکومتوں کو سنبھالنے کی ہمارے اندر قابلیت نہیں ہو گی، جب تعلیم کے لیے ہمارے پاس مدرس نہیں ہوں گے ، جب وعظ و نصیحت کے لیے ہے ہمارے پاس علماء نہیں ہوں گے ، جب روحانیت کا درس دینے کے لیے ہمارے پاس عارف نہیں ہوں گے ، جب تبلیغ و تربیت کے لیے ہمارے پاس مبلغ نہیں ہوں گے ، جب زہد و اتقاء کی روح ہے قائم کرنے کے لیے ہمارے پاس سالک اور عابد نہیں ہوں گے تو ہم اس وقت کیا کر سکیں گے۔نتیجہ یہ ہو گا کہ چونکہ اس جائیداد کو ہم سنبھال نہیں سکیں گے، اس لیے وہ اسلام کے لیے فتح ہیں کیے ہوئے دل، وہ اسلام کے لیے فتح کی ہوئی جائیں، وہ اسلام کے لیے فتح کیے ہوئے قبائل، وہ اسلام کے لیے فتح کی ہوئی قو میں کچھ دن تو ہمارا انتظار کریں گی مگر پھر ان کے دلوں پر زنگ لگتا ہے شروع ہو جائے گا۔پھر خدا کی جائیداد دوبارہ شیطان کے قبضہ میں جانی شروع ہو جائے گی۔مجھے اس چیز کا دیر سے فکر تھا اور متواتر اس مضمون کو میں نے اپنے خطبات میں بھی بیان کیا ہے مگر کل مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے جو بات معلوم ہوئی اُس نے تو میری کمر ہی توڑ دی ہے۔میں نے کشفی حالت میں یہ نظارہ دیکھا کہ گویا آسمان کے فرشتوں کی آوازیں سن رہا ہوں۔مجھے بہت دفعہ کشفی حالت میں ملا اعلیٰ کی آواز سننے کا موقع ملا ہے۔کل بھی ایسا ہی ہوا۔اور میں نے آسمان کے فرشتوں کو دیکھا کہ