خطبات محمود (جلد 25) — Page 280
1944ء 280 خطبات محمود کسی انسان کی موت خواہ وہ کتنا بڑا ہو قیامت نہیں ہو سکتی۔ اگر غالب نے جو بات اپنے جنون کی حالت میں سمجھ لی تھی وہ مسلمان بھی سمجھ لیتے کہ کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور تو وہ کبھی ذلت اور رسوائی کا شکار نہ ہوتے۔ مگر انہوں نے اس حقیقت کو نہ سمجھا۔ پھر جانتے ہو اس کا کیا نتیجہ نکلا؟ نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں پر قیامتیں ٹوٹیں اور بڑی بڑی آئیں۔ مگر چونکہ ی انہوں نے قیامت کی اور تعبیر کی ہوئی تھی اس لیے ان کی اولادوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ قیامت کوئی چیز نہیں۔ اگر قیامت نے آنا ہوتا تو کیا اب تک آنہ چکی ہوتی۔ اس طرح وہ بے ایمان اور بے دین ہو گئے۔ کیونکہ ان کے باپ دادا نے قیامت کی اور تعبیر کی تھی اور خدا اور اس کے رسول نے اور تعبیر کی تھی۔ انہوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَا تَيْنِ 7 میں اور قیامت آپس میں اس کی طرح ملے ہوئے ہیں جس طرح میری دو انگلیاں آپس میں ملی ہوئی ہیں۔ مگر قیامت ہے کہ ابھی تک آنے میں نہیں آتی حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا اس کا مفہوم یہ تھا کہ میں اور قیامت آپس میں بالکل ملے ہوئے ہیں۔ میں مروں گا تو میرے مرنے کے ساتھ ہی تمہاری قیامت شروع ہو جائے گی۔ پس جو کچھ مجھ سے حاصل کرنا ہے میری زندگی میں ہی حاصل کرلو ۔ ورنہ جس دن میں مرا اُسی دن تم پر قیامت آجائے گی اور پھر تم ان برکات کو حاصل نہیں کر سکو گے ۔ جس طرح اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ قیامت کے دن بعض لوگ خواہش کریں گے کہ کاش! اِنہیں پھر دنیا میں لوٹا دیا جائے تا کہ وہ نیک اعمال بجالائیں مگر اللہ تعالیٰ فرمائے گا گلا ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا۔ قیامت آنے کے بعد کسی کو واپس لوٹایا نہیں جاسکتا۔ 8 اسی طرح آپ نے فرمایا جب میں مروں گا تو تمہارے دلوں میں جوش پیدا ہو گا کہ کاش ! میں پھر اس دنیا میں واپس آجاؤں۔ کاش! میں پھر حکم دوں اور تم اپنی جانیں میرے حکم پر قربان کر دو، میں پھر تمہیں مالی قربانی کی تحریک کروں اور تم میرے حکم پر اپنے مالوں کو قربان کر دو۔ اُس وقت تمہارے دلوں میں جوش پیدا ہو گا، تمہارے دلوں میں حسرت پیدا ہو گی کہ کاش! ہم فلاں قربانی میں حصہ لے سکتے۔ کاش! ہم فلاں حکم کی