خطبات محمود (جلد 25) — Page 279
1944ء 279 خطبات محمود آتی رہی۔ اگر مسلمان یہ سمجھتے کہ قرآن کریم میں جس قیامت کا ذکر آتا ہے اس سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی موت بھی مراد ہو سکتی ہے تو وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی موت سے پہلے پہلے اس کے بداثرات سے بچنے کی کوشش کرتے۔ انہوں نے بعد میں بہت کوششیں کیں کہ وہ اس کے بد اثرات سے محفوظ رہیں لیکن انہیں پورا فائدہ اسی صورت را فائدہ اُسی صورت میں ہو سکتا تھا جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں یہ قیامت ان کی آنکھوں کے سامنے رہتی۔ پھر اگر مسلمان سمجھتے کہ حضرت عمرؓ کی شہادت بھی مسلمانوں کے لیے ایک قیامت ہے تو شاید وہ حضرت عمر کی شہادت کے سامان مہیا نہ ہونے دیتے اور اپنی تمام کوشش اور اپنی تمام جد و جہد ان سامانوں کے خلاف صرف کر دیتے جو حضرت عمرؓ کی شہادت کا موجب ہوئے۔ پھر اگر صحابہ سمجھتے کہ حضرت عثمان کی شہادت بھی ایک قیامت ہے جو در حقیقت حضرت عمرؓ کی شہادت کے نتیجہ میں واقع ہوئی تو وہ حضرت عثمان کی شہادت کا موقع نہ آنے دیتے۔ اگر مسلمان سمجھتے کہ حضرت عثمان کی موت کے بعد مسلمانوں میں ایسا تفرقہ پیدا ہو جائے گا جو کبھی مٹ نہیں سکے گا تو میں سمجھتا ہوں وہ اپنے خون کا آخری قطرہ تک اس غرض کے لیے بہا دیتے کہ یہ حادثہ رونما نہ ہو۔ پھر حضرت علیؓ کے وقت اگر مسلمان یہ سمجھتے کہ اگر ہم علی کو ماریں گے تو ہم علی کو نہیں بلکہ اسلام کو ماریں گے۔ اگر علی دنیا سے اٹھ گیا تو وہی گندی بادشاہت دنیا میں قائم ہو جائے گی جو بنی نوع انسان کے لیے مہلک ہے۔ اسی طرح مسلمان اگر سمجھتے کہ ہم علی کو نہیں مار رہے بلکہ ہم اپنی اولادوں کو ہلاک کر رہے ہیں، ہم اپنی عورتوں کی عصمت دری کے سامان مہیا کر رہے ہیں، ہم ظالم بادشاہوں کو موقع دے رہے ہیں کہ وہ ہمیں اپنی جائدادوں سے بے دخل کر دیں، ہم مالداروں کو دعوت دے رہے ہیں کہ وہ آئیں اور ہمارے گھروں کو لوٹ لے جائیں، ہم اسلامی حکومت کو اجاڑنے اور اسے تباہ و برباد کرنے کے سامان جمع کر رہے ہیں، ہم دنیا میں ایک یزید پیدا کر رہے ہیں تو میں سمجھتا ہوں ایک ایک مسلمان حضرت علیؓ کے ارد گرد کٹ کر مر جاتا مگر وہ قاتل کا ہاتھ آپ تک نہ پہنچنے دیتا۔ مگر وہ اس خیال میں ہی بیٹھے رہے کہ قیامت تو وہی ہے جو یکدم سب پر آئے گی اور نظامِ عالم کو تہہ و بالا کر کے رکھ دے گی۔ رض