خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 262 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 262

1944ء 262 خطبات محمود گاڑنے والی ہوں تو ہمیں شکایت کا کوئی حق نہیں۔ کیونکہ خدا تعالیٰ کے قرب کے سوال میں بھائی بھائی کا مقابلہ کرنے اور اُس سے آگے بڑھنے میں حق بجانب ہوتا ہے۔ جب محبوب کے پاس جانے کا سوال ہو تو ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کا خیال اور اس کی خواہش ناجائز نہیں ہوتی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک پیشگوئی میں اجتہادی غلطی کے ماتحت اس ارادہ کے ساتھ مکہ کی طرف گئے کہ عمرہ کریں گے۔ جب مکہ والوں کو علم ہوا تو انہوں نے آپ کو روکنے کے لیے مختلف تدابیر اختیار کیں۔ آخر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سمجھانے اور یہ بتانے کے لیے کہ ہم محض عمرہ کے لیے آئے ہیں لڑنے اور اپنی فوقیت جتانے کے لیے نہیں آئے اور اس میں تمہارا کیا حرج ہے کہ ہم عمرہ کر لیں ایک سفیر اہل مکہ کی طرف بھیجنا چاہا۔ اس کے لیے مختلف صحابہ کے نام تجویز ہوئے۔ مگر سب کی رائے یہی تھی کہ حضرت عثمان اس رض کام کے لیے موزوں ترین ہیں۔ ان کے خاندان کا رسوخ بھی زیادہ ہے۔ تب رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت عثمان کو اس سفارت سفارت پر جانے کا حکم دیا۔ حضرت عثمان گئے اور مکہ والوں سے بات چیت شروع کی۔ مکہ والوں نے کہا کہ اگر مسلمان عمرہ کر جائیں تو یہ ہماری ہتک ہے۔ لوگ کہیں گے کہ مسلمانوں نے تلوار کے زور سے عمرہ کیا ہے۔ حضرت عثمان نے ان کو سمجھایا کہ اس میں تلوار کا کوئی سوال نہیں۔ یہ تو خدا تعالیٰ کی عبادت کا سوال ہے اور ہم عبادت کے لیے آئے ہیں اور ہم یہ نہ کہیں گے کہ ہم نے زور سے عمرہ کیا بلکہ کہیں گے کہ مکہ والوں کا احسان ہے۔ مگر انہوں نے کہا کہ یہ ہر گز نہ ہو گا۔ بحث ہوتی رہی اور ہوتی رہی۔ یہاں تک کہ دیر ہو گئی اور شام کا وقت ہو گیا۔ ادھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ حضرت عثمان کی واپسی کے منتظر تھے۔ جب ان کے واپس آنے میں اتنی دیر ہو گئی تو آپؐ نے خیال کیا کہ شاید مکہ والوں نے، جو اخلاق کے تمام ضابطوں کو توڑ چکے ہیں عثمان کو شہید کر دیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دل اس بات کے لیے بڑا حساس تھا کہ جسے آپ کوئی کام سپرد کریں اسے کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ اپنی اس ذمہ واری کو سمجھتے ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنا صدمہ ہوا کہ آپ ایک درخت کے نیچے بیٹھے تھے جو صحابہ آپؐ کے گرد بیٹھے تھے اُن سے آپؐ نے فرمایا کیا آج تم میرے ہاتھ پر ایک بیعت کے لیے تیار ہو ؟ آؤ میں اور تم