خطبات محمود (جلد 25) — Page 261
خطبات محمود 261 $1944 کوئی اُس ملک سے، کوئی اِس مذہب سے کوئی اُس مذہب سے احمدیت کو قبول کرتا جارہا ہے۔مگر کوئی معین صورت ہمارے سامنے نہیں جس سے مستقبل کا اندازہ کیا جاسکے۔یہی وجہ ہے کہ تحریک جدید کے شروع میں میں نے کہا تھا کہ مکہ کا تو ہمیں علم ہو گیا اب ہمیں احمدیت کے مدینہ کی تلاش کرنا ہے۔نادانوں نے میرے کلام کی عظمت کو نہ سمجھتے ہوئے شور مچادیا اور کہا آؤ تمہیں بتا دیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام لاہور میں فوت ہوئے تھے اس لیے احمدیت کا مدینہ لاہور ہے۔ان کے نزدیک مدینہ کی عظمت صرف اسی میں ہے کہ وہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت ہوئے۔حالانکہ یہ بات صحیح نہیں۔مدینہ کی اصلی عظمت اس میں ہے کہ اس نے دین کو لیا اور پھر تلواروں کے سایہ کے نیچے ساری دنیا میں پھیلا دیا۔تو جب میں نے مدینہ کہا تھا تو اس کے معنے یہ تھے کہ دنیا میں آئندہ چلنے والی رو کا پتہ لگایا جائے اور معلوم کیا جائے کہ اِس زمانہ میں کس قوم کے لیے بڑھنا مقدر ہے اور دیکھا جائے کہ وہ مدینہ سر زمین ہند ہے یا کوئی اور ملک۔جس نے اس زمانہ میں نقطہ مرکز یہ بننا ہے، جس نے احمدیت کے لشکر کو سمیٹنا اور پھر اسے آگے بڑھانا ہے اللہ تعالیٰ ی جانتا ہے کہ کسے یہ فخر حاصل ہو گا۔بظاہر اللہ تعالیٰ نے اس ملک کو چنا ہے اس لیے پہلا حق ہے ہمارا ہے۔لیکن اگر ہم خود ستی سے پلوٹھے ہونے کا حق کھو دیں تو یہ ہماری بد قسمتی ہوگی۔جہاں تک اسلام کی ترقی کا سوال ہے۔بلحاظ اس کے کہ سب انسان بھائی بھائی ہیں ہمیں کوئی ہے شکوہ نہیں کہ احمدیت کا جھنڈا دنیا کی بلندیوں پر ، خواہ کوئی قوم گاڑ دے۔مگر جہاں تک دینی من جد و جہد کا سوال ہے اس بارہ میں باہم رشک کرنا جائز ہے۔اس لیے ہم اگر یہ رشک کریں کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے ہمارے ملک کو مکہ بننے کے لیے چنا ہے مدینہ بھی یہی ہو اور اسلام و احمدیت کی فتوحات ہمارے ذریعہ سے ہوں۔اور یہ کوئی بُری بات نہیں۔ایسا خیال اور ایسی خواہش رکھتے ہوئے ہم اپنے چینی بھائیوں سے غداری نہیں کریں گے، جاپانیوں، روسیوں، فرانسیسیوں سے غداری نہیں کریں گے ، سپینش بھائیوں سے غداری نہیں کریں گے کیونکہ یہ دین کی خدمت کا سوال ہے اور اس میں رقابت جائز ہے۔اسی طرح ان اقوام کے دل میں بھی یہی خواہش ہو کہ وہ بغیر کسی پر ظلم کیے اور کسی کو پیچھے بنائے احمدیت کا جھنڈا دنیا میں ہے