خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 227 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 227

خطبات محج محمود 227 $1944 میں سوچتا ہوں کہ آخر اللہ تعالیٰ نے یہ کام ہمارے سپر د کیوں کیا۔ہم سے زیادہ صحت مند لوگ دنیا میں موجو د تھے، ہم سے زیادہ مال رکھنے والے لوگ دنیا میں موجود تھے ، ہم سے زیادہ بظاہر نمازیں پڑھنے والے لوگ دنیا میں موجود تھے، ہم سے زیادہ بظاہر روزے رکھنے والے لوگ دنیا میں موجود تھے، ہم سے زیادہ تسبیحیں پھیرنے والے اور اپنی زندگیوں کو خلوت کی حالت میں خدا تعالیٰ کی یاد میں گزار دینے والے لوگ دنیا میں موجود تھے۔آخر خدا نے ہم کو جو اس کام کے لیے چنا تو کوئی خوبی اللہ نے ہی دیکھی ہوگی ورنہ ہمیں تو وہ نظر نہیں آتی۔میں تو سمجھتا ہوں کہ یہ محض اس کا احسان ہے کہ اس نے یہ عظیم الشان کام ہمارے سپر د کیا۔یعنی ایسا کام جو دنیا کی مختلف اقوام گزشتہ کے کاموں سے بڑھ کر ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کی اتباع اور مماثلت کا ہے۔ہم حضرت عیسی علیہ السلام کے حواریوں کی بانیاں دیکھتے ہیں تو حیرت آجاتی ہے کہ کس طرح وہ پیدل چلتے ہوئے ایشیا سے لے کر یور تک تبلیغ کے لیے نکل گئے۔وہ پھانسیوں پر چڑھ گئے اور انہوں نے ہر قسم کے دکھ نہایت خوشی ہے اور بشاشت سے برداشت کیے۔بغیر اس کے کہ کوئی انجمن ہو، بغیر اس کے کہ اُن میں تنظیم ہو، بغیر اس کے کہ انہیں روپیہ کی سہولت حاصل ہو، وہ بھیک مانگتے اور لوگوں کو تبلیغ کرتے ہیں چلے گئے۔یہاں تک کہ دنیا میں عیسائیت کے نام کو پھیلا دیا۔ہم حضرت موسٰی علیہ السلام کے ساتھیوں کو دیکھتے ہیں۔ایک زبر دست بادشاہ کا انہوں نے مقابلہ کیا اور گو انہوں نے کمزوریاں بھی دکھائیں مگر پھر بھی اُن کا نمونہ نہایت شاندار ہے۔فرعون جیسا طاقتور بادشاہ جس نے ارد گرد کی تمام حکومتوں کو زیر تگین کر لیا تھا، می جس سے ایران تک ڈرتا تھا، جس سے یورپ تک خائف تھا۔ایسے بادشاہ کے مقابلہ میں وہ ہمت سے کھڑے ہوئے۔انہوں نے اپنا وطن چھوڑ دیا اور غیر معین وعدوں پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ چل پڑے اور چالیس سال تک جنگلوں میں پھرتے رہے۔ہم تو دیکھتے ہیں ہے ہم نے صرف چالیس دن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مزار پر غلبہ اسلام کے لیے لوگوں کو دعا کرنے کی تحریک کی۔پھر بھی قادیان میں سے کتنے تھوڑے لوگ ہیں جو التزام کے ساتھ وہاں دعا کرنے کے لیے جاتے ہیں۔چالیس دن کی دعا اور چالیس سال تک ہیں