خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 21 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 21

خطبات محمود 21 $1944 خریدا تھا جس کابل ایک سو تین یا ایک سو چار روپیہ تک جا پہنچا تھا۔میں نے دیکھا کہ وہ دونوں اس دکاندار سے بحث کر رہے تھے کہ یہ تو ہوئی چیزوں کی قیمت، تم یہ بتاؤ کہ اب تم نے اس میں سے چھوڑنا کیا ہے؟ اور وہ یہ کہہ رہا تھا کہ ہمارا تو ایک ہی بھاؤ مقرر ہے ہم قیمتوں میں کمی بیشی نہیں کیا کرتے۔تھوڑی دیر کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ ان میں سے ایک بمبئی کے کوئی مشہور سیٹھ صاحب ہیں اور دوسرا ان کا سیکرٹری ہے کیونکہ دوسرا شخص بار بار کہتا تھا کہ سیٹھ میں صاحب تمہارے پاس آئے ہیں تمہیں ان کی خاطر تو قیمتوں میں ضرور کمی کرنی چاہیے اور دکاندار یہ کہتا تھا کہ میری دکان پر ایک ہی قیمت ہوتی ہے کمی بیشی نہیں ہوتی۔غرض اسی طرح آدھ گھنٹہ ضائع ہو گیا۔آخر وہ ایک سو روپیہ کا نوٹ اسے دے کر چلے گئے اور اوپر کی رقم انہوں نے نہ دی۔ان کے چلے جانے کے بعد میں نے دکاندار سے کہا کہ آپ تو کہتے تھے ہمارا ایک ہی بھاؤ مقرر ہے اور ان لوگوں سے آپ نے اتنے روپے کم وصول کیے ہیں۔وہ کہنے لگا۔کوئی انصاف ہے؟ یہ تو صریح جبر ہے کہ سودا لے لیا اور قیمت نہ دی۔پھر کہنے لگا یہ جو سیٹھ میری دکان پر آیا ہے یہ بمبئی کے تمام ہندوستانی تاجروں میں سے دوسرے نمبر پر ہے اور یہ روزانہ جتنی کمائی کرتا ہے اُس کا آپ اس سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ آدھ گھنٹہ جو اس نے میری دکان پر ضائع کیا ہے اس آدھ گھنٹے میں یہ دس پندرہ ہزار روپیہ کمالیتا ہے۔مگر باوجود اس قدر دولت و ثروت کے صرف تین چار روپے چھڑانے کے لیے اس نے اپنا وقت بھی ضائع کیا اور میرا وقت بھی ہے ضائع کیا۔تو مال کے لحاظ سے ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ایسا آدمی جس کی سالانہ آمدنی چالیس پچاس بلکہ ساٹھ لاکھ روپیہ کی تھی وہ بھی آدھ گھنٹہ تک ایک دکاندار سے لڑتا جھگڑ تا رہا۔محض اس میں لیے کہ اس کے بل میں سے تین چار روپے کم ہو جائیں اور وہ بار بار اپنی امارت کا واسطہ دیتا تھا۔وہ یہ نہیں کہتا تھا کہ میں غریب ہوں اس لیے تم اتنی قیمت کم کر دو بلکہ وہ کہتا تھا میں امیر ہوں اور میری امارت کا تقاضا یہ ہے کہ چونکہ میں خود چل کر تمہارے پاس آیا ہوں اس لیے تم مجھ سے کم قیمت وصول کرو۔جب دنیا کی یہ حالت ہے تو کون عقلمند یہ خیال کر سکتا ہے کہ کسی زمانہ میں مسیح موعود لو گوں کو لاکھوں روپیہ دے گا اور وہ اس کے لینے سے انکار کر دیں گے۔وہ شخص جس نے دو چار روپوں کے لیے اپنا آدھ گھنٹہ ضائع کر دیا وہ شخص جس نے دو چار روپوں میں