خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 197 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 197

$1944 197 خطبات محمود میری طرف سے مسجد مبارک کی توسیع کے لیے ہیں۔میں نے اُس وقت اپنے دل میں کہا کہ اس عورت کا یہ چندہ اِس کے سرمایہ کا آدھا یا مثلث ہے۔مگر اس نے خدا کا گھر بنانے کے لیے اپنا آدھا یا مثلث سرمایہ پیش کر دیا۔پھر کیوں نہ ہم یقین کریں کہ خدا بھی اپنی اس غریب بندی کا تم گھر جنت میں بنائے گا اور اسے اپنے انعامات سے حصہ دے گا۔پس اللہ تعالیٰ کے جو فضل ہم پر ہیں اُن کو دیکھتے ہوئے ہم یہی سمجھتے ہیں کہ ہمارا ہر قدم ترقی کے میدان میں بڑھتا چلا جائے گا۔جتنا کام اس وقت تک ہوا ہے خدا نے کیا ہے اور آگے بھی خدا ہی کرے گا۔خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو نصیحت کہ اپنی تمام زندگی خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت کے لیے وقف کر دیں: اس کے بعد میں کچھ اور ہے باتیں کہنا چاہتا ہوں اور میں ان باتوں کو جلدی جلدی اس لیے کہہ رہا ہوں کہ میں نہیں جانتا میری کتنی زندگی ہے۔میں اس مقام پر سب سے پہلے اپنے خاندان کو نصیحت کرتا ہوں کہ یہ دیکھو ہمارے او پر اللہ تعالیٰ کے اس قدر احسانات ہیں کہ اگر سجدوں میں ہمارے ناک گھس جائیں ہمارے ماتھوں کی ہڈیاں کھس جائیں تب بھی ہم اس کے احسانات کا شکر ادا نہیں ہے کر سکتے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری موعود کی نسل میں ہمیں پیدا کیا ہے اور اس فخر کے لیے اُس نے اپنے فضل سے ہمیں چن لیا ہے۔پس ہم پر ایک بہت بڑی ذمہ داری عائد ہے۔دنیا کے ہے لوگوں کے لیے دنیا کے اور بہت سے کام پڑے ہوئے ہیں۔مگر ہماری زندگی تو کلیۂ دین کی خدمت اور اسلام کے احیاء کے لیے وقف ہونی چاہیے۔مگر میں دیکھتا ہوں ہمارے خاندان کے کچھ افراد دنیا کے کام میں مشغول ہو گئے ہیں۔بے شک وہ چندے بھی دیتے ہیں، بے شک وہ نمازیں بھی پڑھتے ہیں، بے شک وہ اور دینی کاموں میں بھی حصہ لیتے ہیں۔مگر یہ وہ چیز ہے جس کی اللہ تعالیٰ ہر مومن سے امید کرتا ہے۔ہر مومن سے وہ توقع کرتا ہے کہ وہ جہاں دنیا کے کام کرے وہاں چندے بھی دے، وہاں نمازیں بھی پڑھے ، وہاں دین کے اور کاموں میں بھی حصہ لے۔پس اس لحاظ سے ان میں اور عام مومنوں میں کوئی امتیاز نہیں ہو سکتا۔حالانکہ خدا ہم سے دوسروں کی نسبت زیادہ امید کرتا ہے۔خدا ہم سے یہ نہیں چاہتا کہ ہم کچھ وقت دین کو دیں اور