خطبات محمود (جلد 25) — Page 192
$1944 192 خطبات محمود دین کی خدمت کے لیے ایسا نمونہ دکھا رہی ہے۔لوگ کہتے ہیں کہ قادیان میں لوگ بیٹھے ہیں جو مجاور ہیں اور جن کا کام روٹیاں کھانا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ جو قربانی یہ ایک چھوٹی سی جماعت کر رہی ہے جس کے افراد کو مجاور یہ کہا جاتا ہے اس کی مثال آج دنیا میں کہیں نہیں مل سکتی۔میں جانتا ہوں کہ دنیا میں کروڑ پتی نہیں ارب پتی لوگ بھی موجود ہیں اور وہ اگر چاہیں تو ایک ایک موقع پر ہیں ہیں، تیں تھیں ہیں ہزار بلکہ بعض دفعہ لاکھ لاکھ روپیہ دے دیتے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ یہاں کن لوگوں کی جیبوں سے یہ چندہ لکھتا ہے۔جن لوگوں کی جیبوں سے یہ چندہ نکلتا ہے وہ کروڑ یا ارب پتی نہیں ہے بلکہ نہایت غریب لوگ ہیں اور ان کے گزارے بہت معمولی اور ادنی ہیں۔مگر دین کے لیے جس قربانی اور فدائیت کا وہ ثبوت دے رہے ہیں وہ یقیناً ایک بے مثال بات ہے۔میں جانتا ہوں مسلمانوں میں بڑے بڑے جلسے ہوتے ہیں اور مسلمان لیڈر چندہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر انہیں سوائے ناکامی کے اور کچھ حاصل نہیں ہوتا۔مجھے ایک دفعہ سر سکندر حیات خان مرحوم اور سر فیروز خان نون کا تار ملا کہ سائمن کمیشن کی رپورٹ پر ہم نے بحث کرنی ہے۔آپ بھی شملہ اس فرض سے آئیں۔چنانچہ میں شملہ چلا گیا۔جو جلسہ اس غرض کے لیے منعقد ہوا اُس میں یہ تجویز پیش ہوئی کہ اس غرض کے لیے مسلمانوں کو منظم کیا جائے۔اُس وقت جس قدر مسلمان لیڈر موجود تھے انہوں نے کہا اس میں بڑی مشکل بات یہ ہے کہ ہمارے پاس فنڈ ز موجود نہیں ہیں اور اس کام کے لیے روپے کی ضرورت ہے۔میں نے کہا آپ لوگ اندازہ لگائیں کہ آپ کس قدر روپے میں یہ کام کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس کام کے لیے ہمیں دو ہزار روپیہ کی ضرورت ہے۔میں ان کی یہ بات سن کر حیران رہ گیا کہ یہ لوگ کیا کہہ رہے ہیں کہ دو ہزار روپیہ سے یہ عظیم کام ہو جائے گا۔میں نے اس غلطی کی طرف اُن کو توجہ دلائی تو انہوں نے کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ مسلمانوں میں اس وقت ایسی بدظنی کی لہر دوڑ رہی ہے کہ لوگ چندہ دیتے ہی نہیں۔میں نے کہا کہ اس غرض کے لیے لاکھوں روپے کی ضرورت ہے۔اگر کام کرنا ہے تو ضرورت کے مطابق آپ لوگ روپیہ جمع کریں اور اس کی یہ صورت ہے کہ ہر صوبے کے ذمے