خطبات محمود (جلد 25) — Page 182
خطبات محمود 182 $1944 اس کے علاوہ احادیث سے یہ بھی ثابت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے بعد اپنی والدہ کی قبر پر تشریف لے گئے اور ایک ہزار صحابی آپ کے ساتھ تھا۔صحابہ کہتے ہیں کہ آپ اُس وقت اس قدر روئے کہ ہم نے آپ کو اتنا روتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا۔آپ کو روتے دیکھ کر سب صحابہ اُس دن بے تاب ہو ہو کر روتے تھے۔10 تو زیارت قبور کے لیے انبیاء و اولیاء کا جانا ایک ایسی ثابت شدہ حقیقت ہے جس سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا۔خود می رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر کی زیارت کرنے کے لیے صلحاء جاتے اور وہاں جاکر بڑی تضرع اور عاجزی سے دعائیں کیا کرتے۔حضرت بلال آخری عمر میں شام چلے گئے تھے۔وہ چونکہ حبشی تھے اس لیے لوگ اُنہیں رشتہ نہیں دیتے تھے۔آخر انہوں نے شام میں ایک جگہ رشتہ کے متعلق درخواست کی اور کہا کہ میں حبشی ہوں اگر چاہو تو رشتہ نہ دو اور اگر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابی سمجھ کر مجھے رشتہ دے دو تو بڑی مہربانی ہو گی۔انہوں نے رشتہ دے دیا اور وہ شام میں ہی ٹھہر گئے۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم رویا میں ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا بلال ! تم ہم کو بھول ہی گئے۔کبھی ہماری قبر کی زیارت کرنے کے لیے نہیں آئے۔وہ اُسی وقت اُٹھے اور سفر کا سامان تیار کر کے مدینہ تشریف لے گئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر پر رو رو کر دعا کی۔اُس وقت ان کو اتنی رقت پیدا ہوئی کہ لوگوں میں عام طور پر مشہور ہو گیا کہ بلال آئے ہیں۔حضرت حسن اور حسین، جو اس وقت بڑے ہو چکے تھے دوڑے ہوئے آئے اور کہنے لگے تم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اذان دیا کرتے تھے ؟ انہوں نے کہا ہاں! وہ کہنے لگے ہمیں بھی اپنی اذان سناؤ۔چنانچہ انہوں نے اذان دی اور لوگوں نے سنی۔11 اسی طرح حضرت عمر بن عبد العزیز جنہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اور سابق بزرگانِ اسلام نے بھی مجدد قرار دیا ہے وہ باقاعدہ سفر کر کے شام سے آتے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر دعا کیا کرتے۔جو چیز منع ہے وہ یہ ہے کہ قبر والے سے دُعا مانگی جائے۔یہ چیز بے شک نا جائز ہے اور ایسا کرنا شرک ہے۔جو شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قبر پر جاکر یہ کہتا ہے کہ یارسول اللہ ! یہ مجھے دیں۔