خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 153 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 153

خطبات محمود 153 $1944 لیکن جس کے دل پر چوٹ لگی ہو وہ یقیناً اس سے اتفاق کرے گا اور اس کے دل میں یہ سچی خواہش پیدا ہو گی کہ یہ حکم ان کے ہاں ہونا چاہیے۔اسی طرح جن لوگوں کو اسلام سے بغض نہیں، اسلامی احکام کو سن کر ان کے دل میں بھی لازماً یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ ان کے ہاں بھی یہ تعلیم رائج ہو اور اس طرح فرداً فرداً بنی نوع انسان سے سارے اسلام کے مفید ہونے کی تصدیق کرائی جا سکتی ہے اور کوئی حکم اسلام کا ایسا نہیں جس کی تصدیق نہ ہو سکے۔مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ جو لوگ یہ تصدیق کرتے ہیں وہ مسلمان ہو گئے۔بعض لوگ خلع کے قانون کی تصدیق کرنے والے ہوں گے ، بعض قانونِ وراثت کی، بعض ان قوانین کی جو مزدوروں کے متعلق ہیں اور بعض ان کی جو آقاؤں کے متعلق ہیں۔اسی طرح اسلام کے ہر حکم کی تصدیق کرنے والے لاکھوں لوگ مل جائیں گے۔مگر ان میں سے کسی ایک کو بھی مسلمان نہیں کہا ہے جاسکتا۔اس تصدیق کے معنے صرف یہ ہوں گے کہ اسلامی تعلیم بہت اعلیٰ ہے۔اسی طرح ہم میں سے جو لوگ یہ خواہش رکھتے ہیں کہ ہم بھی دین کے لیے قربانیاں کریں، اسلام کی خدمت کریں، وہ خدا تعالیٰ کے ہاں خدمت کرنے والے شمار نہیں ہو سکتے۔اس خواہش کے یہ معنے ہیں کہ ان کے نزدیک خدا تعالیٰ کے احکام بہت ضروری ہیں لیکن اس سے وہ کامل اور مخلص مومن نہیں بن سکتے۔کامل اور مخلص مومن وہی ہے جو عملی طور پر بھی قربانی کرتا ہے اور جو خدمت اس کے سپرد کی جاتی ہے اور جو ذمہ داری اس پر ڈالی جاتی ہے اس کو پوری طرح ادا کرتا ہے۔ایسے لوگ جو خدمات نہیں کر سکتے ان کا بھی ثواب پاتے ہیں۔جو خدمت ان کے سپر د ہوتی ہے اس کا ہے ثواب تو ملنا ہی ہے لیکن جن خدمات کا موقع ان کو میسر نہیں آتا ان کا ثواب بھی ان کو مل جاتا ہے۔ان کی مثال اس شخص کی ہے جو بوجہ کسی بیماری کے اپنا ایک ہاتھ یا کوئی دوسرا عضو وضو میں کے وقت دھو نہیں سکتا لیکن اس کے نہ دھونے کے باوجود اُس کا وضو مکمل ہو جاتا ہے۔اسی طرح وہ مومن جو ان خدمات کو پوری طرح ادا کرتے ہیں جو ان کے سپر د ہیں ان سے جو خدمات رہ گئیں ان کی وجہ سے اللہ تعالی ان کو نہیں پکڑے گا۔ایک شخص نماز با قاعدہ اور باجماعت پڑھتا ہے، اپنی حیثیت کے مطابق چندہ دیتا اور تبلیغ کرتا ہے لیکن اس کے پاس