خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 123 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 123

1944ء 123 خطبات محمود ہزاروں میل دور ہوتے ہیں۔ کیونکہ ان کے دل ہم سے دور ہوتے ہیں اور ہم میں اور اُن میں کوئی روحانی اتصال نہیں ہوتا۔ پس یہ رستے کھلے ہیں اور ہمیشہ کھلے رہیں گے۔ جو شخص خدا تعالیٰ کے قرب کے ان راستوں کو بند قرار دیتا ہے وہ نہایت ہی ظالم انسان ہے۔ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن ہے، وہ خدا کا دشمن ہے، وہ انسانیت کا دشمن ہے، وہ ایمان کا دشمن ے۔ مگر اس رستے کے کھلے ہونے کے یہ معنی نہیں ہیں کہ تمہیں آپ ہی آپ تمام مقاماتِ قُرب حاصل ہو جائیں گے ۔ رستہ بے شک کھلا ہے مگر یہ قربانیوں کا رستہ ہے۔ اس ہے۔ راستہ پر چلے بغیر تمہیں کچھ بھی حاصل نہیں ہو سکتا۔ میں دیکھتا ہوں کہ ادب جو دین کا اہم ترین حصہ ہے وہ ابھی تک ہماری جماعت کے بعض لوگوں میں نہیں پایا جاتا۔ بعض دفعہ مجلس میں جب کوئی غیر شخص سوال کر رہا ہو تو اسے ایسا جواب دینا پڑتا ہے جو اپنے اندر مذاق کا رنگ رکھتا ہے۔ تم کسی تاریخ سے یہ ثابت نہیں کر سکتے کہ ایسے موقع پر صحابہ قہقہہ مار کر ہنستے ہوں۔ مگر اپنی مجلس میں میں نے دیکھا ہے جب کسی مخالف کو کوئی ایسا جواب دیا جاتا ہے تو لوگ قہقہہ مار کر ہنس پڑتے ہیں اور وہ شخص شر مندہ ہو جاتا ہے۔ حالانکہ وہ ہمارا مہمان ہوتا ہے اور اُس کا ادب ہم پر واجب ہوتا ہے۔ بے شک ایسی حد تک جو جائز ہو اس جواب سے لذت اندوز ہونا درست ہوتا ہے ست ہوتا ہے۔ مگر کوئی ایسا طریقہ جائز نہیں جو آداب مجلس کے بھی خلاف ہو اور مہمان کی دل شکنی کا بھی موجب ہو ۔ اسی طرح اور بہت سی باتیں ہیں جن کی طرف ہماری جماعت کو توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔ مگر وہ ایک دن میں آنے والی نہیں۔ جو کچھ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے آپ کی مجلس میں بیٹھ کر سیکھا خدا تعالیٰ نے اُن تمام باتوں کو ہم پر کھول دیا ہے ، اس کی حقیقت اُس نے ہمیں سمجھادی ہے اور اُن امور پر عمل کر کے یقینا ہمیں صحابہ کا مقام حاصل ہو سکتا ہے۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اگر ہم بعض صحابہ سے بھی بڑا درجہ حاصل کرنا چاہیں تو حاصل کر سکتے ہیں۔ بلکہ ہم اپنے درجہ میں ترقی کر کے وہ مقام بھی حاصل کر سکتے ہیں جب ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بروز بن جائیں۔ بلکہ اگر کوئی شخص مجھ سے پوچھے کہ کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کوئی شخص بڑا درجہ حاصل کر سکتا ہے ؟ تو میں کہا کرتا ہوں خدا نے اس مقام کا دروازہ بھی بند نہیں کیا۔ رض