خطبات محمود (جلد 25) — Page 120
1944ء 120 خطبات محمود کسی قیمتی چیز کو ضائع کر دے۔ کیا تم نے کبھی سنا کہ کوئی شخص کہہ رہا ہو کہ فلاں جگہ سونے کی بارش ہوئی تھی مگر میں نے کہا سونے کو کیا اکٹھا کرنا ہے اگر ضائع ہوتا ہے تو بے شک ہو جائے۔ اگر کوئی شخص ایسا کہے تو سب اس پر ہنسیں گے کہ یہ کیسا احمق ہے جس کے سامنے سونے کی بارش ہوئی اور اس نے اس کو اکٹھا نہ کیا۔ اگر واقع میں سونے کی بارش ہوئی تھی تو اس کا یہ بھی تو فرض تھا کہ اس سونے کو اکٹھا کرتا اور اس کو اہمیت دیتا۔ اسی طرح دینی باتیں سن کر صرف یہ کرنا کہ کسی بات پر ہنس دینا اور کسی پر افسوس کا اظہار کر دینا یہ ہر گز کسی عقلمند انسان کا طریق نہیں ہو سکتا۔ صحابہ یہ نہیں کرتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کسی بات پر واہ وا کہہ دیں، کسی بات پر افسوس کا اظہار کر دیں اور پھر خالی ہاتھ اپنے گھروں کو چلے جائیں۔ وہ ایک ایک بات کو سنتے اور اس نیت اور اس ارادہ کے ساتھ سنتے تھے کہ ہم اس پر رم عمل کریں گے۔ یہی طریق اگر لاہور والے اختیار کریں تو بہت کچھ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتابیں ہیں ان کو پڑھنا اور ان سے فائدہ اٹھانا بھی جماعت کے اہم ترین فرائض میں سے ہے۔ مگر یاد رکھو! صرف لذت حاصل کرنے کے لیے تم ایسا مت کرو۔ بلکہ فائدہ اٹھانے اور عمل کرنے کی نیت سے تم ان امور کی طرف توجہ کرو۔ تم لذت حاصل کرنے کے لیے سارا قرآن پڑھ جاؤ تو تمہیں کچھ فائدہ حاصل نہیں نہیں ہو گا۔ لیکن اگر تم اللہ تعالیٰ کی صفات پر غور کرتے ہوئے اس کی محبت کے جوش میں ایک دفعہ بھی سُبْحَانَ اللہ کہہ لو تو وہ تمہیں کہیں کا کہیں پہنچا دے گا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک دفعہ مجلس میں بیان فرمایا کہ بعض دفعہ ہم تسبیح کرتے ہیں تو ایک تسبیح سے ہی ہم کہیں کے کہیں جا پہنچتے ہیں۔ میں اس مجلس میں موجود نہیں تھا۔ ایک نوجوان نے یہ بات سنی تو وہ وہاں سے اٹھ کر میرے پاس آیا اور کہنے لگا خبر نہیں آج حضرت صاحب نے یہ کیا کہا ہے۔ وہ صاحب تجربہ نہیں تھا مگر میں اُس عمر میں بھی صاحب تجربہ تھا۔ حالانکہ میری عمر اس وقت سترہ اٹھارہ سال کی تھی۔ میں نے جب اُس سے یہ بات سنی تو میں نے کہا ہاں ! ایسا ہوتا ہے۔ وہ کہنے لگا کس طرح؟ میں نے کہا کئی دفعہ میں نے دیکھا ہے کہ میں نے اپنی زبان سے ایک دفعہ سُبْحَانَ اللہ کہا تو مجھے یوں معلوم ہوا جیسے میری روحانیت اُڑ کر