خطبات محمود (جلد 25) — Page 116
1944ء 116 خطبات محمود کے قریب قریب اپنی قربانیوں کو پہنچا دو گے ۔ درمیانی زمانہ میں جب نورِ نبوت سے بہت بعد پیدا ہو چکا تھا، مسلمانوں کو بہت بڑی مشکلات اور بہت بڑی کوششوں کے بعد یہ مقام حاصل ہوا اور وہ بھی انفرادی طور پر صرف چند مسلمانوں کو کیونکہ ان کے لیے کوئی ایسا سہارا نہ تھا جس پر ٹیک لگا کر وہ سہولت سے ان مدارج قرب کو طے کر سکتے۔ لیکن اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے تمہارے لیے کئی قسم کے سہارے بہم پہنچائے ہوئے ہیں اور تم ان سہاروں کے ذریعہ آسانی سے ان مقامات قرب کو حاصل کر سکتے ہو۔ مگر قربانیاں بہر حال ضروری ہوں گی۔ پس اس کی بات پر خوش مت ہو کہ تمہارے لیے صحابیت کا دروازہ آج بھی کھلا ہے۔ اس دروازے کا کھلنا تمہارے لیے عمل کا موجب ہونا چاہیے۔ سستی اور غفلت کا موجب نہیں ہونا چاہیے۔ پہلے لوگوں پر نا امیدی کی وجہ سے سستی طاری ہوئی اور اب ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگ محض اس امید کی وجہ سے کہ دروازہ تو کھلا ہے جب چاہیں گے داخل ہو جائیں گے سستی اور غفلت میں مبتلا ہو جائیں اور اس دروازے کا کھلنا ان کے لیے کسی خیر اور برکت کا موجب نہ ہو سکے۔ پس یہ مقام تو تمہیں مل تو سکتا ہے مگر ملے گا قربانیوں کے بعد ہی۔ انہی قربانیوں کے بعد جو صحابہ نے کیں اور جن کا ذکر سن کر آج بھی انسانی بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لائے اور کچھ ایسے عشق اور محبت سے بھر گئے کہ اپنی تمام جائیدادیں انہوں نے چھوڑ دیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت سے مستفیض ہونے کے لیے مدینہ جا پہنچے اور آپؐ کے ارد گرد جمع ہو گئے۔ تم غور کرو! آج کتنے لوگ ہیں ہیں جو اس قسم کی قربانی کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اسلام کی فتح اور کامیابی کے لیے کئی قسم کی جنگوں کی ضرورت ہے اور کئی لڑائیاں ایسی ہیں جن کو آج بھی لڑا جائے تو اسلام کے لیے فتح کا ایک نیا باب کھل سکتا ہے۔ مگر چونکہ یقین نہیں ہوتا کہ اگر جماعت کو اس لڑائی کا حکم دیا گیا تو وہ پوری طرح اس کے لیے تیار بھی ہو گی یا نہیں، وہ اعلان جنگ کا جواب اپنے شاندار نمونہ سے دے گی یا سستی اور غفلت کا نمونہ دکھائے گی اس لیے ان جنگوں کو دوسرے وقت پر ملتوی کر دیا جاتا ہے تا کہ جماعت سے اُس وقت ان قربانیوں کا مطالبہ ہو جب اس کا قدم مضبوط ہو اور اس میں اضمحلال کے آثار نہ ہوں۔