خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 112 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 112

خطبات م محمود 112 $1944 بغیر دوسرے بھائی سے ملنے کے بھی قائم ہو جاتا ہے لیکن صحابی کارشتہ ملے بغیر قائم نہیں ہوتا۔پھر ایک اور بات بھی مد نظر رکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو دین دیا ہے وہ ایک زندہ دین ہے۔اگر ہم اس دین اور مذہب پر چل کر خدا سے مل سکتے ہیں جو وراء الوڑی ہستی ہے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیوں نہیں مل سکتے۔لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چونکہ فوت ہو چکے ہیں اس لیے اب ہم ان سے مل نہیں ہے سکتے۔حالانکہ ہم تو اس بات کے قائل ہی نہیں کہ جو شخص فوت ہو جاتا ہے وہ بالکل مٹ جاتا ہے۔ہم تو اس بات کے قائل ہیں کہ موت کے بعد انسانی روح زندہ رہتی ہے اور اُسے اگلے جہان میں ایک اور جسم دے دیا جاتا ہے۔جب ہمارا یہ اعتقاد ہے تو کیا دنیا میں کوئی بھی شخص ایسا ہے جو یہ خیال کرتا ہو کہ انسانی روح خدا تعالیٰ سے زیادہ لطیف ہے۔بہر حال ہر شخص کو ماننا پڑے گا کہ انسانی روح خواہ اس کے جسم کے مقابلہ میں کتنی ہی لطیف ہو اللہ تعالیٰ سے زیادہ لطیف نہیں ہو سکتی۔بلکہ اس کے مقابلہ میں نسبتاً کثیف اور مادہ کے زیادہ قریب ہوتی ہے۔پھر جب ہم اس بات کے قائل ہیں کہ ہم خدا سے مل سکتے ہیں، اس کا قرب حاصل کر سکتے ہیں، اس کے کلام سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں، وہ ہماری دعائیں سنتا ہے، ہماری حاجات کو پورا کرتا ہے، ہماری ضروریات کا کفیل بنتا ہے تو یہ کیسا بیہودہ خیال ہے کہ چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت ہو چکے ہیں اس لیے اب ہمیں آپ کی صحبت میسر نہیں آسکتی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی روح تو الگ رہی ہم تو کافروں کی ارواح کے متعلق بھی اس بات کے قائل ہیں کہ وہ زندہ ہیں۔پس جب ہر کافر کی روح زندہ ہے ، ہر مومن کی روح زندہ ہے تو ہم کس طرح مان سکتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روح نَعُوذُ بِاللهِ فنا ہو چکی ہے اور جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روح آج بھی زندہ ہے تو یقینا آپ کا قرب بہت زیادہ ممکن ہے۔اللہ تعالیٰ کی صفات کی حقیقت اور اس کی گنہ کو پانا بہت مشکل ہوتا ہے اور انسان بہت بڑی جدوجہد ، بہت بڑی قربانیوں اور بہت بڑی عبادتوں کے بعد اپنے درجہ کے مطابق اس چیز کو حاصل کرتا ہے۔لیکن محمد صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ انسانوں میں سے ہی ایک انسان ہیں اس لیے آپ کو سمجھنا اور آپ کی سکنہ کو پانا خدا تعالیٰ کی صفات کو سمجھنے اور اس کی سکنہ کو پانے سے