خطبات محمود (جلد 25) — Page 107
$1944 107 خطبات محمود لیے بھی ایسی تعلیم قبول نہیں کر سکتا۔یہ تو ایسی گندی اور متعفن اور بد بودار تعلیم ہے کہ اس قابل ہے کہ اسے اٹھا کر میلے کے ڈھیروں پر پھینک دیا جائے، بجائے اس کے کہ لوگوں کے دلوں اور ان کے دماغوں میں اسے جگہ دی جائے۔اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس لیے بھیجا تھا کہ آپ اعلیٰ سے اعلیٰ کمالات کے دروازے لوگوں کے لیے کھول دیں جو آپ کے زمانہ کے لیے ہی مخصوص نہ ہوں بلکہ قیامت تک آنے والے لوگوں کے لیے کھلے ہیں رہیں۔اگر یہ تعلیم صرف صحابہ کے لیے ہی تھی، اگر یہ تعلیم باقی ساری دنیا کو خدا تعالی کے قرب اور اس کی محبت سے ہمیشہ کے لیے محروم کرنے والی تھی تو یہ گندی دنیا جو خدا تعالی کے لیے قرب سے محروم ہو چکی تھی، یہ گندی دنیا جو خدا تعالیٰ کے الہام سے محروم ہو چکی تھی، یہ گندی دنیا جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کو سمجھنے سے محروم ہو چکی تھی، یہ گندی دنیا جو ہے اخلاق میں ترقی کرنے سے محروم ہو چکی تھی یہ تو اس قابل تھی کہ اس کو تباہ کر دیا جاتا، اس مینی کو برباد کر دیا جاتا، اس پر عذاب نازل کر کے اسے حرف غلط کی طرح مٹادیا جاتا۔نوح کی قوم ہے پر وہ تباہی نہیں آئی جو اس دنیا پر آنی چاہیے تھی، لوط کی قوم پر وہ عذاب نازل نہیں ہوا جو اس دنیا پر نازل ہو نا چاہیے تھا۔بشر طیکہ وہ سب کچھ درست ہو تا جو اس زمانہ کے نادان مولوی کہہ رہے ہیں۔مگر یہ جھوٹ اور افترا ہے۔اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے ہم نے تجھے مبعوث کیا ہے۔کسی ایک قوم کی طرف نہیں، کسی ایک ملک کی طرف نہیں بلکہ دنیا کے سارے انسانوں کی طرف ہم نے تجھے مبعوث کر کے بھیجا ہے۔2 اسی طرح آپ حاضر اور غائب سب کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں میں اللہ کا رسول ہوں جو جو تم سب کی طرف بھیجا گیا ہوں۔پس جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ساری دنیا کی طرف مبعوث ہوئے اور خدا نے آپ کو وہ تعلیم دی ہے جو سب کو سمیٹنے والی اور ان کو ایک نقطه مرکزی پر جمع کرنے والی ہے تو کیسا نادان اور احمق ہے وہ انسان جو کہتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تمام برکات پہلے لوگوں پر ہی ختم ہو چکیں، اب کوئی انسان وہ مقام حاصل نہیں کر سکتا جو پہلے لوگوں نے حاصل کیا۔یہ تو ایسے گندے میں اور ناپاک خیالات ہیں کہ قرآن اور اسلام ان کو ایک منٹ کے لیے بھی برداشت نہیں