خطبات محمود (جلد 25) — Page 105
خطبات محمود 105 $1944 کے تمدن کی نقل کریں تو بے شک کریں لیکن اس کے خلاف کوئی اور شکل تجویز نہیں کر سکتے۔تو نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں نے تمدن کے متعلق غور و فکر کرنا چھوڑ دیا اور وہ اس چھوٹے سے تالاب کی صورت میں بدل گیا جس کا پانی نہیں بہتا، جس میں بو تو پید اہو جاتی ہے، جس میں تعفن تو پیدا ہو جاتا ہے، جس میں سڑاند تو آنے لگتی ہے مگر خوشنمائی اور دلکشی باقی نہیں ہے رہتی۔اسلامی تمدن بھی مسلمانوں کی اس حماقت کے نتیجہ میں ایک متعفن چیز بن گیا جس سے خود مسلمان بھی نفرت کرنے لگے۔پس یہ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ مَنْ قَالَ هَلَكَ الْقَوْمُ فَهُوَ أَهْلَكَهُدیه در حقیقت آپ نے ایک بہت بڑا نفسیاتی نکتہ بیان فرمایا تھا۔اگر قوم کے لیڈر، اگر قوم کے صلحاء، اگر قوم کے علماء، اگر قوم کے امراء اس ایک حدیث کو ہی یاد رکھتے ، اگر وہ اپنی قوم کو مایوس نہ کرتے، اگر وہ اپنی قوم کو پژمردہ اور کم ہمت نہ بناتے ، اگر وہ ان کی امیدوں کو قائم رکھتے، اگر وہ ان کی امنگوں کو بڑھاتے ، اگر وہ اپنی جہالت سے ان کو یہ نہ کہتے کہ تمہارے لیے اب ترقی کا کوئی موقع نہیں تو مسلمان روحانی میدان میں بھی آگے رہتے، اقتصادی میدان میں بھی آگے رہتے ، علمی میدان میں بھی آگے رہتے اور سائنٹیفک میدان میں بھی آگے رہتے۔مگر ہمارے ہاں تو یہاں تک مصیبت بڑھی کہ مذہب تو الگ رہا انہوں نے دنیوی علوم بھی پہلے لوگوں پر ختم کر دیے۔بو علی سینا کے متعلق کہہ دیا کہ اس نے طب میں جو کچھ لکھ دیا ہے اس سے بڑھ کر اور کچھ نہیں لکھا جا سکتا، منطق کے متعلق کہہ دیا کہ اس بارہ میں فلاں منطقی جو کچھ کہہ گیا ہے اس کے بعد منطق کے علم میں کوئی زیادتی نہیں کی جاسکتی۔گویا اول تو انہوں نے خاتم النبیین کے غلط معنے کیے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیضان کو جو ایک دریا کی صورت میں بہہ رہا تھا محدود کر دیا اور دوسری طرف یہ غضب ڈھایا کہ کسی کو خاتم طب بنا دیا، کسی کو خاتم منطق بنا دیا، کسی کو خاتم فلسفہ بنا دیا اور اس طرح ایک ایک کر کے سارے علوم کے متعلق یہ فیصلہ کر دیا گیا کہ ان کے متعلق پہلے لوگ جو کچھ لکھ چکے ہیں ان سے زیادہ اب کوئی شخص نہیں لکھ سکتا۔دماغی ترقی رک گئی ہے، ذہنی ارتقائی جاتا رہا ہے، علم و فہم کا مادہ سلب ہو چکا ہے اور علوم کے دروازے سب بند ہو چکے ہیں۔گو