خطبات محمود (جلد 25) — Page 753
$1944 753 خطبات محمود اپنا چندہ پیش کر چکے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُن سے کہا ابو بکر ! گھر میں کیا چھوڑ آئے ہو ؟ انہوں نے عرض کیا اللہ اور رسول کا نام ہی گھر میں چھوڑا ہے اور کچھ نہیں۔یہ سن کر حضرت عمرؓ نے دل میں کہا کہ میں ان سے بڑھ نہیں سکتا۔2 تو جن لوگوں نے اپنے سارے مال اور نصف مال پیش کر دیے کوئی اندھا اور نادان ہی یہ کہہ سکتا ہے کہ وہ ایک دینار پیش کرنے سے ڈر گئے۔ایک غزوہ کی تیاری کے لیے ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چندہ کی تحریک کی تو حضرت عثمان نے بارہ ہزار دینار پیش کیے۔10 پھر کون کہہ سکتا ہے کہ یہ لوگ ایک دینار بطور صدقہ پیش کرنے سے ڈر گئے۔شیعوں کی یہ بات صرف صحابہ سے بغض اور کینہ کا نتیجہ ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ ایک نیکی کا خیال حضرت علی کو آیا اور اُنہوں نے اس پر عمل کیا۔مگر یہ نہیں کہ اس واقعہ سے دوسرے صحابہ کی تنقیص ثابت ہوتی ہے۔بعض دفعہ کسی کو ایک نیکی کا خیال آجاتا ہے اور وہ اس پر عمل کر لیتا ہے مگر اس سے دوسروں پر اُس کی فضیلت ثابت نہیں ہو سکتی۔ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجلس میں بیٹھے تھے۔آپ نے فرمایا کہ جنت کا ایک مقام ایسا ایسا ہے اور مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے مجھے وہ مقام عطا کرے گا۔یہ بات سنتے ہی ایک صحابی کھڑے ہو گئے اور عرض کیا یارسول اللہ ! دعا فرمائیں میں بھی آپ کے ساتھ ہوں۔آپ نے فرمایا تم بھی ہم میرے ساتھ ہو گے۔یہ سن کر ایک اور صحابی کھڑے ہوئے اور کہا یار سول اللہ ! میرے لیے بھی دعا فرمائیں کہ میں بھی آپ کے ساتھ ہوں۔آپ نے فرمایا جس نے اس سے فائدہ اٹھانا تھا اٹھالیا۔11 اب تو ہر کوئی یہ کہ سکتا ہے۔تو کسی نیکی کا خیال بعض اوقات کسی کو آجاتا ہے اور کسی دوسری نیکی کا خیال کسی دوسرے کو آجاتا ہے۔یہ موقع اس آیت کی تفسیر کا نہیں ہے اس لیے میں اس کی تفصیل میں نہیں جاسکتا۔مگر بہر حال یہ اعتراض خلاف عقل اور خلاف واقعہ ہے۔ہاں ہم یہ جانتے ہیں کہ حضرت علی کو ایک نیکی کا خیال آگیا اور انہوں نے اس سے فائدہ بھی اٹھالیا۔مگر یہ بات بالکل غلط ہے کہ دوسرے صحابہ ڈر گئے تھے۔جن لوگوں نے اپنے نصف اموال پیش کر دیے بلکہ جنہوں نے سارے اموال دے دیے اور ایک ایک تحریک میں