خطبات محمود (جلد 25) — Page 745
$1944 745 خطبات محمود وہ جلسہ کے بعد گھر جا کر اپنے رشتہ داروں سے نہ مل سکے گا۔ایسے لوگوں کی رشتہ دار عورتیں آسکتی ہیں۔ورنہ عام ہدایت یہی ہے کہ پنجاب کی عورتوں کو جلسہ پر آنے سے روکا جائے۔سوائے اُن کے جن کے ساتھ چھ سات سال سے کم عمر کے بچے نہ ہوں۔اس سے زیادہ عمر کے بچے ایک حد تک سفر کی تکالیف برداشت کر سکتے ہیں اور ان میں علم حاصل کرنے کا بھی شوق پیدا ہو نا شروع ہو جاتا ہے۔مگر جن عورتوں کے ساتھ چھ سات سال سے کم عمر کے بچے ہوں وہ نہ آئیں اور جن کو سفر کی سہولتیں حاصل ہو سکتی ہیں وہ بھی اس سے مستثنیٰ ہیں۔اس کے بعد میں تحریک جدید کی طرف دوستوں کو پھر توجہ دلاتا ہوں۔جہاں اس کا ایک پہلو مالی تھا وہاں کچھ اور قیود بھی تھیں مثلاً سادہ زندگی اختیار کرنا اور کھیل تماشوں وغیرہ سے اجتناب۔جہاں تک مجھے علم ہے جماعت کی اکثریت نے اس پر عمل کیا ہے۔مگر پھر بھی ہے ایک طبقہ ایسا ہے جس نے پورے طور پر اس پر عمل نہیں کیا۔چنانچہ تھوڑے ہی دن ہوئے دہلی سے ایک نوجوان کا خط مجھے ملا کہ یہاں بعض نوجوان سینما جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسے نہ دیکھنے کا کوئی حکم نہیں ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ جہاں تک قانون کا سوال ہے جبر آروکنے کا اختیار حکومت کو ہی ہو سکتا ہے ہمیں یہ اختیار نہیں۔مگر رو کنا بھی کئی قسم کا ہوتا ہے۔ایک مینی روکنا محبت اور پیار کے ذریعہ ہوتا ہے۔بچے اگر ماں باپ کی بات مانتے ہیں تو محبت اور پیار کی وجہ ہے سے ہی مانتے ہیں ورنہ کونسا ایسا قانون یا قاعدہ ہے کہ جس سے ماں باپ بچوں کو مجبور کر کے حکم منوا سکتے ہیں۔بسا اوقات بچے جوان ہوتے ہیں، خود کماتے ہیں اور ماں باپ کی بھی پرورش کرتے ہیں۔مگر پھر بھی ماں باپ اُن کو کوئی ہدایت کریں تو وہ اسے مانتے ہیں۔اس لیے نہیں کہ ہے اگر وہ نہ مانیں تو ماں باپ مجبور کر کے منوا سکتے ہیں۔بلکہ اس لیے کہ ماں باپ کے ساتھ اُن کا تعلق محبت اور پیار کا ہوتا ہے۔اسی طرح ہمارا نظام بھی محبت اور پیار کا ہے۔کوئی قانون ہمارے ہاتھ میں نہیں کہ جس کے ذریعہ ہم اپنے احکام منوا سکیں۔بلکہ میری ذاتی رائے تو یہی ہے کہ احمدیت میں خلافت ہمیشہ بغیر دنیوی حکومت کے رہنی چاہیے۔دنیوی نظام حکومت الگ ہونا چاہیے اور خلافت الگ تا وہ شریعت کے احکام کی تعمیل کی نگرانی کر سکے۔ابھی ہمارے ہاتھ میں حکومت ہے ہی نہیں لیکن اگر آئے تو میری رائے یہی ہے کہ خلفاء کو ہمیشہ ہے