خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 735 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 735

خطبات محمود 735 $1944 شاہجہان کی بیوی ممتاز محل جب فوت ہوئی تو چونکہ اُس کو اپنی بیوی سے بہت محبت تھی اس لیے اُس کی وفات کی وجہ سے شاہجہان کے قلب پر بہت صدمہ تھا۔ایک دن اُس نے خواب دیکھا جس میں اس کو ایک محل دکھایا گیا کہ یہ تیری بیوی کی قبر کی جگہ ہے۔شاہجہان نے دربار کے تمام انجنیئروں کو بلایا اور اُن کے سامنے اپنا خواب بیان کیا اور خواب میں اُس نے جو عمارت دیکھی تھی اس کا نقشہ ان کے سامنے پیش کیا کہ اس قسم کی عمارت ہے جو میں بنوانا ہے چاہتا ہوں۔یہ عمارت تیار کر ادو۔مختلف انجنیئروں نے اُس نقشہ پر غور کیا اور آخر سب نے انکار کر دیا کہ ہم اس قابل نہیں ہیں کہ اس قسم کی عمارت تیار کراسکیں۔آخر ایک انجنیئر جو کوئی چوٹی کے انجنیئروں میں سے تو نہیں تھا مگر اچھے پایہ کا تھا اس نے کہا میں اس بات کے لیے تیار ہوں اور جس کام سے باقی بڑے بڑے انجنیئروں نے انکار کر دیا ہے میں وہ کام کر سکتا ہے ہوں۔مگر میری ایک درخواست ہے کہ بادشاہ سلامت میرے ساتھ کشتی میں بیٹھ کر جمنا پار تشریف لے چلیں اور دولاکھ روپوں کے توڑے اپنے ساتھ کشتی میں رکھ لیں۔میں دریا کے ہے اُس طرف جاکر اپنا مشورہ دوں گا۔چنانچہ بادشاہ نے دولاکھ روپیہ اپنے ساتھ رکھ لیا اور اُس انجنیر کے ساتھ کشتی میں بیٹھ کر دریا میں روانہ ہوا۔دو لاکھ روپیہ کے کوئی دو دو ہزار کے توڑے تھے۔جب کشتی کنارے سے گز بھر کے فاصلہ پر گئی تو اس انجنیئر نے روپوں کی ایک میں تھیلی پکڑ کر دریا میں پھینک دی اور کہا بادشاہ سلامت! جو عمارت آپ بنوانا چاہتے ہیں اس پر ہے اس طرح روپیہ خرچ ہو گا۔پھر ذرا اور گز بھر کے فاصلے پر کشتی گئی تو اس نے دوسری تحصیلی پکڑے کر دریا میں ڈال دی اور کہا بادشاہ سلامت! آپ کے ذہن میں جس قسم کی عمارت بنوانے کا ہے نقشہ ہے اس پر اس طرح روپیہ خرچ ہو گا۔پھر کشتی ذرا اور آگے گئی تو اس نے تیسری تحصیلی دریا میں پھینک دی اور کہا کہ بادشاہ سلامت! اس عمارت پر اس طرح روپیہ خرچ ہو گا۔اسی طرح ہیں دوسرے کنارے تک پہنچتے پہنچتے اُس نے سارا روپیہ دریا میں پھینک دیا۔مگر بادشاہ کے ماتھے پر کوئی کل نہ آیا۔جس وقت دریا کے دوسرے کنارے پر پہنچے تو اس انجنیئر نے کہا ہے بادشاہ سلامت! مبارک ہو اب یہ عمارت تیار ہو جائے گی۔اگر پہلے انجنیئروں نے اس کام میں ہے ہاتھ نہیں ڈالا تو صرف اس لیے کہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ جس قسم کی عمارت کا نقشہ آپ نے ہم