خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 716 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 716

$1944 716 محمود قلیل سے قلیل تعداد مبلغین کی ہے جس سے دنیا میں ایک حرکت پیدا کی جاسکتی ہے۔یوں تو ہر ملک میں اس سے بہت زیادہ مبلغین کی ضرورت ہے۔مثلاً انگلستان، جرمنی، فرانس وغیرہ ممالک کے لیے تین مبلغ کافی نہیں ہو سکتے۔لیکن فی الحال اگر تین تین بھی بھیجے جاسکیں تو کام می شروع کیا جاسکتا ہے۔ایک ان میں سے کوئی رسالہ وغیرہ نکال لے، ایک دورے وغیرہ کرتا رہے اور ایک ہیڈ کوارٹر میں رہے، کتب وغیرہ فروخت کرے اور چھوٹے پیمانے پر کوئی لائبریری و غیر ہ جاری کرلے۔یہ صرف کام شروع کرنے کے لیے ہے ورنہ تین تین مبلغین بہت تھوڑے ہیں۔قادیان ایک چھوٹی سی بستی ہے اور پندرہ ہیں علماء یہاں ہر وقت موجود رہتے ہیں پھر بھی شور رہتا ہے کہ آدمی کافی نہیں ہیں اور اس لحاظ سے جن ممالک کی آبادی پانچ ہے چھ کروڑ ہو وہاں تین مبلغین کی مثال ایسی بھی نہیں جیسے آٹے میں نمک کی۔ان کی حیثیت اتنی ہے بھی نہیں جتنی جسم انسانی کے ایک بال کی جو نسبت جسم میں ہے پانچ چھ کروڑ آبادی کے ملک میں میں تین مبلغین کی نسبت اتنی بھی نہیں بنتی۔اور یہ تعداد صرف اتنی ہی ہے جو جھنڈ ابلند رکھے اس سے زیادہ نہیں۔اور پھر یہ بات بھی ہے کہ یہ مبلغ ساری عمر وہاں نہیں رہ سکتے۔کیونکہ ان کے بیوی بچے یہاں ہوں گے۔ان سے ملنے نیز دین کی تعلیم کو تازہ کرنے کے لیے ان کو تین چار سال کے بعد واپس بلا نالازمی ہو گا۔اِس لیے کم سے کم دُگنی تعداد ہی کام دے سکتی ہے۔یہ علقہ وار مبلغین کی تقسیم جو میں نے بیان کی ہے اس کی مجموعی تعداد 106 بنتی ہے۔پس اتنے می ہی مبلغ ہمیں یہاں رکھنے پڑیں گے تا تین تین یا چار چار سال کے بعد ان کا آپس میں تبادلہ ہوتا رہے۔غیر ممالک میں کام کرنے والے تین چار سال کے بعد قادیان آجائیں اور یہاں جو ہوں وہ اُن کی جگہ جاکر کام کریں۔ورنہ غیر ممالک میں کام کرنے والے مبلغین کی مثال ویسی ہی ہو گی جو اس وقت ہمارے امریکہ کے مبلغ کی ہے۔ان کو کچھ مشکلات درپیش ہیں اور وہ واپس آنا چاہتے ہیں اور وہ لکھ رہے ہیں کہ مجھے واپس آنے دیا جائے۔میں نے صدر انجمن احمدیہ سے کہا بھی ہے کہ ان کو بعض خاندانی مشکلات ہیں ان کو واپس بلایا جائے مگر اس نے ابھی تک کوئی انتظام نہیں کیا۔صدر انجمن احمدیہ نے بعض نام امریکہ میں بطور مبلغ بھیجنے کے لیے میرے سامنے پیش کیے ہیں مگر ان میں ایک صاحب ایسے ہیں کہ جو 24 سال سے قادیان نہیں آئے۔