خطبات محمود (جلد 25) — Page 670
خطبات محمود 670 $1944 گندم بنائی ہے سارے انسانوں کے لیے۔مگر جب ایک شخص ان چیزوں سے خاص طور پر نفع کماتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اب تمہارا فرض ہے کہ تم مالک کو اُس کا ٹیکس ادا کرو کیونکہ یہ وہ چیزیں ہیں جن کی ساری دنیا مالک ہے۔پس جس طرح مزارع اپنے مالک کو ٹیکس ادا کرتا ہے اُسی طرح اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو حکم دیتا ہے کہ وہ بھی ٹیکس ادا کرے۔وہ فرماتا ہے چونکہ تم کسان بنے اور تم نے اس زمین میں زراعت کی جو ساری دنیا کی ہے اس لیے اب تمہارا فرض ہے کہ تم مالک کو اس کا حق دو۔چنانچہ اڑھائی فیصدی ٹیکس اُس سے وصول کیا جاتا ہے اور پھر جو نظام مقرر ہوتا ہے وہ اس ٹیکس کو غرباء کی مدد کے لیے خرچ کرتا ہے۔لیکن اگر کوئی شخص خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ ٹیکس ادا نہیں کرتا یا ادا کرتا ہے مگر پورے طور پر ادا نہیں کرتا، کسی قدر حصہ اپنے پاس رکھ لیتا ہے تو اسلامی نقطہ نگاہ سے وہ ایک چور کی حیثیت رکھتا ہے۔بظاہر ایک شخص کپڑے کا تاجر ہو گا لیکن در حقیقت وہ چور ہو گا۔کیونکہ کپڑا آخر کن چیزوں سے تیار ہوتا ہے؟ کپڑا تیار ہوتا ہے روئی سے۔اور روئی تیار ہوتی ہے زمین سے۔اور زمین کسی خاص شخص کے لیے نہیں بنائی گئی بلکہ اللہ تعالیٰ نے ساری دنیا کے لیے بنائی ہے۔پس جب زمین ساری دنیا کے لیے بنائی گئی ہے اور اسی زمین میں سے روئی کی فصل تیار کر کے ایک شخص ہے کپڑے کی تجارت کرتا ہے تو اس کا فرض ہے کہ وہ اس ٹیکس کو ادا کرے جو اس پر عائد ہوتا ہے کہ اُس نے اُس چیز سے فائدہ اٹھایا جس میں ساری دنیا کا حصہ تھا۔اسی طرح زمینوں پر زکوۃ کا حکم ہے کیونکہ زمین کسی ایک شخص کی نہیں بلکہ ساری دنیا کی ہے۔اگر بعض وجوہ سے کوئی ٹکڑا کسی شخص کے قبضہ میں چلا گیا ہے تو بہر حال اُسے غریبوں کو اُن کا حق دینا پڑے گا اور وہ یہ کہہ کر اس ٹیکس سے نہیں بچ سکے گا کہ جب میں نے اپنی ذاتی کوشش سے یہ روپیہ کمایا ہے تو میں غریبوں کو اپنے مال کا ایک حصہ کیوں دوں؟ اس لیے کہ گو اس نے ذاتی محنت سے روپیہ کمایا ہے مگر بہر حال اُس نے روپیہ ایک ایسی چیز سے کمایا ہے جو ساری دنیا کے لیے مشترک تھی اور جس میں غرباء کا حق بھی رکھا گیا تھا۔پس اسلام کی ہدایت کے مطابق اس شخص سے زکوۃ لی مین جائے گی اور غرباء پر خرچ کی جائے گی۔اگر کوئی شخص زکوۃ نہیں دیتا تو و و یقینا چور ہے۔خواہ وہ منی یہ کہے کہ میں نے رات اور دن محنت کر کے کپڑے کی تجارت سے یہ روپیہ کمایا ہے، خواہ وہ