خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 668 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 668

$1944 668 خطبات محمود ہوتے ہیں، کچھ نگر ان ہوتے ہیں۔اس طرح دو دو سو، چار چار سو، پانچ پانچ سو بلکہ ہزار ہزار آدمیوں کے لیے روزگار کی صورت پیدا ہو جاتی ہے اور بڑے بڑے کارخانوں میں تو بعض دفعہ ہیں بیس ہزار آدمی ایک وقت میں کام کر رہے ہوتے ہیں۔اِس طرح اُس کا روپیہ بند نہیں رہتا بلکہ بنی نوع انسان کے کام آتا رہتا ہے۔یا اگر کوئی شخص اپنے روپیہ سے تجارت کرتا ہے تب آتارہتا بھی وہ لوگوں کے کام آتا ہے۔لیکن اگر کوئی شخص دس ہزار روپیہ بند کر کے رکھ دیتا ہے تو چونکہ لوگ اُس روپیہ سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے اس لیے اسلام کے نزدیک اِس قسم کا روپیہ جمع رکھنا ناجائز ہو گا۔پس گو روپیہ کم ہو مگر اُس کا جمع کرنانا جائز ہے اور گو روپیہ زیادہ ہو مگر اس کو کام میں لگانا جائز ہے کیونکہ روپیہ کو کام پر لگانے سے بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچتا ہے۔تیسرا حکم اسلام کی طرف سے یہ دیا گیا ہے کہ ہر شخص جس کے پاس روپیہ جمع ہو وہ ہے اپنے مال کی دیانتداری سے زکوۃ ادا کرے۔اگر کوئی شخص با قاعدگی سے زکوۃ ادا کرتا ہے تو یہ اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ وہ دنیا کو دین کی خاطر کماتا ہے۔لیکن اگر کوئی شخص زکوۃ نہیں دیتا ہے تو یہ اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ وہ دنیا محض دنیا کی خاطر کما رہا ہے خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا شوق اُس کے دل میں نہیں۔اگر واقع میں اُس کے دل میں خدا تعالیٰ کے قرب اور اس می کی محبت کو جذب کرنے کا احساس ہوتا، اگر دنیا کو وہ دین کی خاطر کمارہا ہو تا تو اُس کا فرض تھا کہ وہ اپنے مال میں سے خدا تعالیٰ کا حق ادا کرتا اور پوری دیانتداری کے ساتھ ادا کرتا۔لیکن جب وہ زکوۃ ادا نہیں کرتا تو یہ اِس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ وہ شیطان کا تابع ہے خدا تعالیٰ کے احکام کا تابع نہیں ہے۔زکوۃ کے معاملہ میں میں دیکھتا ہوں کہ تاجروں میں بہت بڑی کو تا ہی پائی جاتی ہے۔پرانے زمانہ میں تو غیر احمدی تاجروں نے بالکل اندھیر مچار کھا تھا۔حضرت خلیفہ اول سنایا کرتے تھے کہ بھیرہ میں ایک بہت بڑا مسلمان تاجر تھا جو ہر سال با قاعدگی سے زکوۃ دیا کرتا تھا تی مگر اُس کی زکوۃ دینے کا طریق یہ تھا کہ وہ زکوۃ کا تمام روپیہ ایک گھڑے میں بند کر دیتا تھا۔فرض کرو اُس کے پاس ایک لاکھ روپیہ ہوتا جس میں سے اڑھائی ہزار روپیہ زکوۃ دینا اس پر فرض ہوتا تو وہ اڑھائی ہزار روپیہ ایک گھڑے میں ڈال دیتا اور ان روپوں کے اوپر