خطبات محمود (جلد 25) — Page 667
خطبات محج محمود 667 $1944 تمام کاموں کے لیے جب تک روپیہ پاس نہ ہو کوئی کارخانہ دار اپنے کارخانے کو چلا نہیں سکتا۔اسلام کے نزدیک اس قسم کے کام کو چلانے کے لیے جتنے روپیہ کی ضرورت ہو وہ انسان اپنے پاس رکھ سکتا ہے۔یا مثلاً ایک شخص نے دو تین سال تک اپنے کسی بچہ کی شادی کرنی ہے اور روپیہ اس کے پاس نہیں اس ضرورت کے لیے اگر وہ رو پیر کو پس انداز کرناشروع کر دیتا ہے یا تی مکان بنانے کے لیے روپیہ جمع کرنا شروع کر دیتا ہے یا کسی اور ایسی ہی ضرورت کے لیے روپیہ جمع کرنا شروع کر دیتا ہے جس کے لیے اُس کی روزانہ کی آمد کافی نہیں ہو سکتی تو یہ اسلام کے خلاف نہیں ہو گا اور نہ یہ اُس رنگ میں روپیہ کا جمع کرنا کہلائے گا جس رنگ میں روپیہ جمع کرنا اسلام نے منع قرار دیا ہے۔یہ صرف بعد میں آنے والے ضروری اخراجات کو مہیا کرنے کی ایک جائز صورت ہو گی۔یا دوسرے الفاظ میں یوں کہہ لو کہ بعد میں اُس نے جو کچھ خرچ کرنا ہے اُس کے لیے یہ اُس کی تیاری ہے۔پس چونکہ یہ روپیہ محض جمع رکھنے کے لیے نہیں بلکہ کسی دوسرے وقت خرچ کرنے کے لیے ہے اس لیے اس قسم کا روپیہ پس انداز کرنا اسلام کے رو سے بالکل جائز ہو گا۔ہاں جن لوگوں کے پاس ضرورت سے زائد روپیہ ہوتا ہے اور وہ اس روپیہ کو جمع کر دیتے ہیں تو اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔جیسے کئی لوگ ضرورت سے زائد روپیہ کی بنکوں میں جمع کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر ہم نے بنک میں روپیہ جمع نہ کیا تو گھر میں ہی خرچ ہو جائے گا۔یا بعض لوگ چوری چھپے اس لیے روپیہ جمع کرتے رہتے ہیں کہ لوگوں کو پتہ نہ لگے ہے کہ ان کے پاس مال ہے۔اس قسم کا روپیہ جمع رکھنا اسلامی احکام کے ماتحت ناجائز ہے۔اسلام کے نزد یک اگر ایک شخص دس لاکھ روپیہ سے ایک کار خانہ جاری کر دیتا ہے تو یہ بالکل جائز ہے۔لیکن اگر کوئی شخص دس ہزار روپیہ غلق میں بند کر کے رکھ دیتا ہے تو یہ ناجائز ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جب ایک شخص دس لاکھ روپیہ کسی کار خانے پر لگاتا ہے تو اسے کئی ہزار روپیہ مشینوں کے خریدنے پر صرف کرنا پڑتا ہے۔پھر ان مشینوں سے کام لینے والے مستریوں کی اُسے ضرورت ہوتی ہے، فٹروں کی اسے ضرورت ہوتی ہے، مزدوروں کی اُسے ضرورت ہوتی ہے اور اس طرح سینکڑوں لوگوں کے لیے روزگار کی صورت پیدا ہو جاتی ہے۔اسی طرح جب کوئی کارخانہ جاری کیا جاتا ہے تو اس میں کچھ لوگوں کو افسر مقرر کرنا پڑتا ہے، کچھ ماتحت ہوتے ہیں، کچھ تلی ہے