خطبات محمود (جلد 25) — Page 666
خطبات محمود 666 $1944 دین بن گئی ہے۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے کوئی ملازم جو اپنے آقا کے حکم کے مطابق کام کرنے کا عادی ہو۔لازماً اُسی قسم کے کام کرے گا جس قسم کے کام کرنے کا اُس کے آقا کی طرف سے اس کو حکم ملے۔فرض کرو ایک شخص بخیل اور کنجوس ہے لیکن اس کا آقا رحم دل ہے ہے اور وہ غریبوں سے حُسنِ سلوک کرنے کا عادی ہے تو ایسا شخص خواہ بخیل اور کنجوس ہی کیوں نہ ہو جب وہ رحم دل اور سخی آقا کے ماتحت کام کرے گا اور آقا اُسے کہے گا کہ وہ بھی اپنے مال میں سے غریبوں کا حق ادا کرے اور وہ اس حکم کی تعمیل میں غریبوں کی مدد کرے گا تو لازماً اسے اپنے آقا کی خوشنودی حاصل ہوگی اور وہ بھی آہستہ آہستہ اپنے آقا کا ہم رنگ ہو جائے ہے گا۔اسی طرح جو شخص دنیا کماتا ہے لیکن پھر اپنے اموال کو خد اتعالیٰ کے احکام کے تابع کر دیتا ہے تو اُس کی دنیا بھی دین بن جاتی ہے۔کیونکہ اُس نے وہ سب کچھ کیا جس کے کرنے کا اُسے خدا نے حکم دیا تھا۔پس اس کا مال کماناد نیانہ رہا بلکہ دین کا ایک حصہ بن گیا۔دوسری ہدایت اسلام نے یہ دی ہے کہ روپیہ جمع نہ کیا جائے۔یہ ہدایت بھی ایسی ہے جس کی طرف خاص طور پر توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔مگر یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اس ہدایت کے یہ معنے نہیں ہیں کہ کسی کے گھر روپیہ نہ ہو۔وہ روپیہ جس کا رکھنا کسی خاص فرض کے لیے ضروری ہو مثلا کام کے نقصان کو پورا کرنے کے لیے یا مکان وغیرہ کے لیے یا روزانہ ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے تو ایسا روپیہ ہر شخص اپنے پاس رکھ سکتا ہے۔پس روپیہ جمع نہ کرنے کے معنے یہ نہیں کہ کسی قسم کا روپیہ بھی انسان کے پاس جمع نہیں ہونا چاہیے۔بلکہ اسلامی ہے ہدایت کے ماتحت اتنا روپیہ انسان اپنے پاس رکھ سکتا ہے جو اس کے کاموں کے لیے ضروری ہے ہو۔مثلاً ایک شخص نے کارخانہ کھولا ہوا ہے اُسے کارخانہ کے لیے کبھی اوہ خریدنا پڑتا ہے، کبھی کوئلہ خریدنا پڑتا ہے، کبھی مٹی کا تیل خریدنا پڑتا ہے، کبھی آئے یا عوجی بنانے کے لیے اسے گیہوں خریدنا پڑتا ہے۔یا اگر بوٹ کا کارخانہ اُس نے جاری کیا ہوا ہو تو اسے مشینیں خریدنی پڑتی ہے ہیں، کیل خریدنے پڑتے ہیں، چھڑا خریدنا پڑتا ہے اور پھر بعض دفعہ کارخانوں میں کام کرتے کرتے مشینوں کے پرزے ٹوٹ جاتے ہیں، بعض دفعہ کوئی مشین ہی ناکارہ ہو جاتی ہے یہ اور اس وقت ضرورت ہوتی ہے کہ اور مشین یا مشین کے اور پر زے خریدے جائیں۔ان می