خطبات محمود (جلد 25) — Page 599
$1944 599 خطبات محمود اُس ملک کی مروجہ زبان میں ایسا لٹریچر ہو جس کے ذریعہ اُس ملک کے تعلیم یافتہ لوگوں اور عوام کے اندر ہیجان پیدا کیا جا سکے۔اس غرض کو پورا کرنے کے لیے سب سے پہلے قرآن مجید کے ترجمہ کی ضرورت ہے ہے۔کیونکہ یہ جامع کتاب ہے جس میں تمام علوم اور سارے مضامین جمع ہیں۔باقی کتابوں میں ایک ایک مضمون ہوتا ہے مگر یہ تمام مضامین کا مجموعہ ہے۔پھر دوسری کتابوں کی طرف توجہ دلانے کے لیے ہمیں زور لگانے کی ضرورت ہوتی ہے۔مگر قرآن مجید اپنا زور آپ لگاتا ہے۔ہر ملک کی زبان میں اگر اس کا ترجمہ کر دیا جائے تو جس زبان میں بھی اس کا ترجمہ ہو گا اُس زبان کے جاننے والے لوگ بڑے شوق سے اسے لیں گے اور پڑھیں گے۔دوسری کتابوں کے لیے ہمیں پروپیگینڈا کرنا پڑتا ہے مگر قرآن مجید کو یہ فضیلت حاصل ہے کہ اس کا پروپیگینڈا ہو چکا ہے ہے اور تیرہ سو سال سے ہوتا چلا آرہا ہے۔اس لیے بڑی سہولت کے ساتھ یہ تمام دنیا میں پھیل سکتا ہے۔پس سب سے پہلی ضرورت یہ ہے کہ قرآن مجید کا ترجمہ آٹھ زبانوں میں کردیا جائے۔عربی میں تو وہ پہلے ہی ہے۔باقی آٹھ زبانوں میں اس کا ترجمہ ہونا ضروری ہے۔انگریزی، روی، جرمن، فرانسیسی ، اطالین، ڈچ، سپینش اور پرتگیزی۔ان آٹھ زبانوں میں اگر قرآن مجید کا ترجمہ ہو جائے تو دنیا کے ہر گوشہ میں قرآن مجید پہنچ سکتا ہے اور ساری دنیا میں تبلیغ ہو سکتی ہے سوائے چین اور جاپان کے۔مگر یہ دونوں محدود زبانیں ہیں۔چین میں چونکہ آٹھ کروڑ مسلمانوں کی آبادی ہے اس لیے وہاں عربی کام دے سکتی ہے۔البتہ جاپان ایسا ملک ہے جو باہر رہ جائے گا۔مگر وہ دنیا کا ہزارواں حصہ ہے۔فی الحال اگر اس کو نظر انداز بھی کر دیا ہے جائے تو کوئی حرج نہیں۔فوری طور پر ان آٹھ زبانوں میں تراجم شائع کرنے کی ضرورت ہے۔اگر ان زبانوں میں ہمارے نقطہ نگاہ سے صحیح تراجم شائع ہو جائیں تو مبلغین آسانی سے اس ملک یا اس زبان کے جانے والے علمی طبقہ تک پہنچ سکیں گے اور کہہ سکیں گے کہ آپ کی زبان میں ہے قرآن مجید کا ترجمہ چھپ چکا ہے۔خرید کر یا فلاں لائبریری سے لے کر پڑھ لیں۔انگریزی کا ترجمہ ہمارے ہاں دیر سے ہو رہا ہے۔گو افسوس ہے کہ کسی نہ کسی غلطی کی وجہ سے جو تراجم کے مراکز سے دور ہونے کی وجہ سے ہو جاتی ہے اس پھرتی سے کام نہیں ہو رہا جس پھرتی سے ہے