خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 593 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 593

$1944 593 خطبات محمود حالات ہی ایسے ہیں کہ ان حالات میں کام ہو ہی نہیں سکتا۔پس یہ اتنا لمبا عرصہ خدا تعالیٰ نے ہمیں تیاری کے لیے دیا ہے تاکہ ہم اپنی طاقت کو جمع کر لیں۔لیکن اب یہ عرصہ ختم ہوتا نظر آرہا ہے اور آثار ظاہر کر رہے ہیں کہ جنگ ایسے مقام پر پہنچ گئی ہے کہ کوئی نہ کوئی فریق بلکہ إنشاء الله محوری طاقتیں ہتھیار ڈالنے اور اتحادیوں کی اطاعت قبول کر لینے پر مجبور ہو جائیں میں گی۔اس کے بعد چھ سات ماہ یا سال تک رستے گھل جائیں گے اور عام آمد ورفت جاری ہو جائے گی۔اِس عرصہ میں ہم نے مبلغ تیار کرنے اور ریزرو فنڈ قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ مادی کوششوں کے لحاظ سے ہماری کوشش بہت محدود ہے۔عیسائیوں کی کروڑ کروڑ، دو دو کروڑ روپے کی ایک ایک انجمن ہوتی ہے۔ان کے مقابلہ میں ہمارا دس پندرہ لاکھ روپے کا ریز رو فنڈ کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔بلکہ اس میں مشنوں کے سامانوں کو دیکھتے ہوئے ساری دنیا تو الگ رہی ایک ایک ملک میں بھی دس پندرہ لاکھ کی کوئی حقیقت نہیں۔مگر بہر حال جس خدا نے ہمیں اتنی طاقت دی ہے کہ دس پندرہ لاکھ ریز رو فنڈ اکٹھا کریں۔وہ اس سے زیادہ کی بھی طاقت دے گا۔مگر جس طرح دنیا کی جنگ کے لیے تیاری اور ٹریننگ کی ضرورت ہوتی ہے اُسی طرح دین کی جنگ کے لیے بھی تیاری اور ٹریننگ کی ضرورت ہوتی ہے۔ہر شخص اس بات کا اہل نہیں ہوتا کہ مبلغ بن سکے۔جب تک وہ اسلامی مسائل اور علوم دینیہ سے اچھی طرح واقف نہ ہو۔جو ان باتوں سے ناواقف ہو گا وہ خود بھی گمراہ ہو گا اور دوسروں کو بھی گمراہ کرے گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مسلمانوں کی ہے تباہی جن وجوہ کی وجہ سے ہو گی ان میں سے سب سے بڑی وجہ یہ ہو گی کہ ایسے لوگ غالب ہے ہوں گے جو علوم دین سے ناواقف ہونے کی وجہ سے خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی ہے گمراہ کریں گے 1 اگر ہم بھی اسی قسم کے مبلغ باہر بھیج دیتے جو دینی علوم سے واقف نہ ہوتے تو وہ اصلاح کرنے کی بجائے خرابی پیدا کرنے کا موجب ہوتے۔اس لیے ضروری تھا کہ میں جن کو تبلیغ کے لیے باہر بھیجا جائے، اُن کو علوم دینیہ پر عبور حاصل ہو۔یہ ہماری نئی کوشش تھی۔سامان تھوڑے تھے ، ذرائع کم تھے اور تجربہ کو تاہ تھا۔اس میں ہم نے شروع شروع میں مہینے