خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 585 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 585

خطبات محمود 585 $1944 اور جس طرح درباری خوشامدیوں کا طریق ہوتا ہے وہ بات بات پر کہیں گے کہ دیکھیے آپ کے فلاں کام میں امریکہ نے دخل دے دیا حالانکہ امریکہ کا کیا حق تھا کہ وہ اِس میں دخل دیتا۔امریکہ کو کہیں گے فلاں کام میں انگریزوں نے مداخلت کر دی ہے حالانکہ انگریزوں کا کوئی حق نہ تھا کہ وہ مداخلت کرتے۔اسی طرح کوئی پارٹی روس سے جاملے گی اور اُسے انگریزوں اور امریکنوں کے خلاف اکساتی رہے گی۔نتیجہ یہ ہو گا کہ فساد کی روح بڑھ جائے گی اور پھر دنیا ایک خطر ناک جنگ کی لپیٹ میں آجائے گی۔یہ خیال کرنا کہ اتحادی جس طرح آج مل کر لڑ رہے ہیں۔اسی طرح ہمیشہ ان میں اتحاد ر ہے گا بیوقوفی کا خیال ہے۔اگر فتنہ وفساد کی اِس روح کو کچلا نہ گیا اور مفتوح قوموں کی مختلف پارٹیاں امریکہ اور روس اور انگلستان سے جاملیں اور ان طاقتوں کو اُنہوں نے ایک دوسرے کے خلاف اکسانا شروع کر دیا تو ابھی ایک سال بھی نہیں گزرے گا کہ آپس میں اختلاف شروع ہو جائے گا۔اور جب سیاسی معاملات میں حکومتوں کا آپس میں اختلاف شروع ہوتا ہے تو اُس وقت کچھ لوگ تو سنجیدگی سے معاملات پر غور کرتے ہیں مگر کچھ جو شیلے لوگ ہوتے ہیں وہ اُسی وقت مقابلہ میں کھڑے ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں فلاں ملک کے لوگوں کی کیا طاقت ہے کہ ہمارے مقابلہ میں اٹھ سکیں۔ہم کل تک ان کی مدد کرتے رہے تھے اور آج وہ ہمارے خلاف کھڑے ہو گئے ہیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آپس میں سر پھٹول شروع ہو جاتی ہے۔حقیقی امن ہمیشہ دل کی صفائی سے پیدا ہوتا ہے۔پس جب تک ایسے طریق اختیار نہیں کیے جائیں گے جو امن کو مضبوط بنیادوں پر قائم کرنے والے ہوں اُس وقت تک محض جنگ کی علامات کو دبا دینا قطعاً کوئی مفید نتیجہ پیدا نہیں کر سکتا۔ہم اس بات کے قائل ہیں کہ مجرم کو سزاملنی چاہیے۔ہم انجیلی تعلیم کی طرح ہر گز اس بات کے قائل نہیں ہیں کہ اگر کوئی ہے ایک گال پر تھپڑ مارے تو اس کی طرف دوسری گال بھی پھیر دینی چاہیے۔2 مگر ہم اس کے ساتھ ہی اس بات کے بھی قائل ہیں کہ سزا میں محبت کا جذبہ ہونا چاہیے۔عداوت اور بغض اور کینہ سزا دیتے وقت دل کے کسی گوشہ میں بھی نہیں ہونا چاہیے۔جب حضرت مسیح نے اپنے حواریوں سے کہا کہ خدا محبت ہے 3 تو در حقیقت انہوں نے سچ کہا اور انہوں نے اسی نظریہ کو