خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 584 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 584

خطبات محج محمود 584 $1944 میرے اندر ایسی طاقت نہیں کہ ظلم کا بدلہ لے سکوں تو وہ کسی دوسرے کو اُکسا کر اپنے جذبہ انتقام کو فرو کرنے کی کوشش کرتا ہے۔مجھے اس بارہ میں ایک قریب کا تجربہ ہے۔ہم ایک دفعہ موٹر میں جارہے تھے کہ ایک پولیس افسر نے ہمارے ڈرائیور کو دق کیا۔میرے خیال میں بھی اُس افسر کا رویہ ناجائز تھا۔کیونکہ بعض باتیں میں نے خود دیکھی تھیں اور میں سمجھتا تھا اس افسر نے دیانتداری سے کام میں نہیں لیا۔مگر ایک ڈرائیور کی یہ طاقت کہاں ہوتی ہے کہ وہ انسپکٹر کا مقابلہ کر سکے۔پولیس افسر نے جب اسے ناجائز طور پر دق کیا تو اسے بہت غصہ آیا کیونکہ اُس پر ناجائز الزام لگایا گیا تھا اور میں بھی اس بات کا گواہ تھا مگر وہ پیچ و تاب کھا کر رہ گیا اور اپنی کمزوری کی وجہ سے اس افسر کے مقابلہ میں کچھ کہہ نہ سکا۔کچھ دور جانے کے بعد اسی افسر نے ایک اور موٹر والے کو اسی طرح دق کیا۔اس موٹر میں ایک کر نیل سوار تھا۔ہم بھی اُس وقت اُسی جگہ سے گزر رہے تھے۔یہ دیکھ کر موٹر ڈرائیور مجھے کہنے لگا آپ مجھے اجازت دیں کہ میں اِس جگہ موٹر ٹھہرا کر اس کرنیل سے تھوڑی دیر کے لیے بات کرلوں۔میں نے اُسے کہا کہ تمہارا اُس سے کیا واسطہ ؟ مگر وہ کہنے لگا آپ اجازت دے دیں۔یہ پولیس افسر اسی طرح دق کیا کرتا ہے اور اس کا علاج کرناضروری ہے۔چنانچہ میری اجازت پر اُس نے کرنیل کی گاڑی کے آگے اپنی گاڑی کھڑی کر لی جس پر اسے بھی ٹھہر نا پڑا اور پھر اُس نے نیچے اتر کر کر نیل کو خوب اکسایا کہ یہ افسر اسی طرح ہر موٹر ڈرائیور کو دِق کیا کرتا ہے۔اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اُس کر نیل نے منزل پر پہنچ کر پولیس افسر کو خوب گالیاں دیں۔تو دیکھ لو اس نے اپنا بدلہ لیا۔مگر اس رنگ میں کہ ایک ہے طاقتور شخص کو اُس نے دوسرے کے خلاف اکسا دیا۔اس میں خود یہ طاقت نہیں تھی کہ وہ ظالم ہیں افسر سے بدلہ لے سکتا مگر چونکہ وہ ہوشیار تھا اس لیے اس نے انتقام لینے کا یہ طریق سوچا کہ کسی میں طاقتور شخص کو اُس کے خلاف بھڑ کا دوں۔چنانچہ اُس نے ایسا ہی کیا اور اپنا انتقام اس افسر - لے لیا۔اسی طرح اگر اس قسم کے فساد جاری رہے تو نتیجہ یہ ہو گا کہ جرمنی اور جاپان و غیر وی سے کوئی امریکہ سے مل جائے گا، کوئی روس سے مل جائے گا، کوئی انگریزوں سے مل جائے گا